LIVE
Loading Breaking News...

این ڈی ایم اے سیلاب الرٹ، مون سون بارشوں سے ملک بھر میں تباہی

News Image
پاکستان میں مون سون کی شدید بارشوں کے باعث نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ بارشوں کے دوران مختلف حادسات میں جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 126 تک پہنچ گئی ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بھر میں جاری مون سون کی غیر معمولی اور شدید بارشوں کے پیش نظر ہنگامی سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ حالیہ بارشوں کے نتیجے میں ملک کے بیشتر حصوں میں جل تھل ایک ہو چکا ہے اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ متعلقہ اداروں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق مون سون بارشوں کے ان لامتناہی سلسلوں کی وجہ سے ملک بھر میں ہونے والے مختلف حادثات میں اب تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 126 تک پہنچ گئی ہے۔ ان افسوسناک اموات میں سب سے بڑی وجہ کرنٹ لگنے کے حادثات ہیں، جو بوسیدہ ترسیلی نظام اور حفاظتی تدابیر کے فقدان کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیواریں گرنے، چھتیں بیٹھنے اور سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے واقعات بھی بڑی تعداد میں رپورٹ ہوئے ہیں، جنھوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ صوبائی سطح پر بھی صورتحال کافی تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ صوبہ پنجاب میں پی ڈی ایم اے کی جاری کردہ رپورٹس کے مطابق اکیلے پنجاب میں بارشوں سے جڑے مختلف حادثات کے نتیجے میں 46 قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔ اس کے علاوہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب بھارت کی جانب سے سلال ڈیم سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان نے باضابطہ طور پر سیلاب کا الرٹ جاری کیا، جس سے دریائے چناب اور دیگر ملحقہ دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ حکومت اور تمام متعلقہ ادارے اس ہنگامی بحران سے نبرد آزما ہونے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور محکمہ موسمیات اور این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ دریاؤں کے قریب رہائش پذیر افراد کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی تنبیہ جاری کی جا چکی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی نقصان سے بروقت بچا جا سکے۔