World
یوکرین کے جوابی ڈرون حملے، آٹھ افراد ہلاک، روس اور یوکرین میں جنگ مزید شدت اختیار کر گئی
روس کے حالیہ میزائل حملوں کے جواب میں یوکرین نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے تیل کے ذخائر اور اہم عمارتوں کو نشانہ بنایا۔ اس کشیدگی کے دوران یوکرینی صدر ولادیمیر زیینسکی نے پیٹریاٹ میزائلوں کی شدید کمی سے خبردار کیا ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازعہ ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے جہاں دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف شدید فضائی اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یوکرین کی جانب سے کیے جانے والے جوابی ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان حملوں میں خاص طور پر روسی تیل کے حبس (آئل ہبز) اور چند اہم رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے علاقے میں شدید مالی اور جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کارروائیاں روس کی جانب سے حالیہ دنوں میں کیے جانے والے شدید میزائل حملوں کا براہ راست جواب ہیں۔ دوسری جانب، یوکرینی صدر ولادیمیر زیینسکی نے بین الاقوامی برادری سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ملک کو اس وقت پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی شدید قلت کا سامنا ہے جو کہ یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ صدر زیینسکی نے اتحادی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ یوکرین کو جلد از جلد جدید فضائی دفاعی سازوسامان فراہم کریں تاکہ روسی میزائلوں اور ڈرون حملوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے میں امن کی امیدوں کو مزید مدھم کر دیا ہے جبکہ عام شہریوں کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور سفارتی ذرائع سے جنگ بندی کے لیے کوششیں جاری ہیں،تاہم زمینی حقائق اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں جنگ کی شدت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔