LIVE
Loading Breaking News...

بیبی بومرز اور جدید گروسری سٹورز: 10 بڑی شکایات

News Image
پچھلے پچاس برسوں کے دوران گروسری کی خریداری کے نظام میں ڈرامائی تبدیلیاں آئی ہیں جن سے بیبی بومرز نسل سخت ناخوش نظر آتی ہے۔ جدید سٹورز میں خودکار نظام اور روایتی کسٹمر سروس کے خاتمے نے بزرگ خریداروں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
گزشتہ پچاس برسوں کے دوران گروسری کی خریداری کے نظام میں ڈرامائی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، جنہیں دیکھ کر ہر کوئی خوش نہیں ہے۔ بیبی بومرز، جن کی پیدائش عام طور پر 1946 سے 1964 کے درمیان سمجھی جاتی ہے، جدید دور کے گروسری سٹورز کے طریقہ کار سے شدید بیزار اور فرسٹریٹ نظر آتے ہیں۔ پرانے زمانوں میں جب لوگ خریداری کے لیے جاتے تھے تو انہیں دکان داروں اور سٹور کے عملے کی طرف سے ذاتی توجہ اور روایتی مہمان نوازی ملتی تھی، جو اب معدوم ہوتی جا رہی ہے۔ آج کے جدید سپر مارکیٹس اور گروسری سٹورز میں خودکار چیک آؤٹ سسٹمز یعنی سیلف سروس کا رجحان بہت زیادہ بڑھ گیا ہے، جسے بزرگ خریدار اپنے لیے ایک بڑی زحمت سمجھتے ہیں۔ اکثر بیبی بومرز کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں ہیں لیکن ہر چیز کو مشینوں کے سپرد کر دینے اور انسانی عملے کو کم کرنے سے خریداری کا خوشگوار تجربہ ختم ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ، سٹورز میں مصنوعات کی جگہ بار بار تبدیل کر دینا بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جو اس نسل کے خریداروں کو شدید الجھن میں مبتلا کرتا ہے۔ خریداری کی رسیدوں کا ڈیجیٹل ہو جانا اور کاغذی رسیدوں کا خاتمہ بھی ان کی بڑی شکایات میں شامل ہے۔ بہت سے بزرگ خریدار سمارٹ فونز یا ڈیجیٹل ایپس کے ذریعے کوپن حاصل کرنے اور ڈسکاؤنٹ سکیمیں استعمال کرنے میں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اکثر بچت کے مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ پیکنگ کے سائز میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ بھی ایک ایسا موضوع ہے جس پر بیبی بومرز کھل کر تنقید کرتے ہیں۔ ان تمام تبدیلیوں کے باوجود، یہ نسل اب بھی اپنے پرانے اور روایتی شاپنگ کے اصولوں کو ترجیح دیتی ہے جہاں کسٹمر کو اہمیت دی جاتی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گروسری سٹورز چلانے والی کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ بزرگ خریداروں کی ضروریات اور سہولیات کا بھی خاص خیال رکھیں تاکہ خریداری کا عمل سب کے لیے یکساں طور پر آسان اور آرام دہ بن سکے۔