Technology
مائیکروسافٹ ورڈ ورم اور کوپائلٹ کے خطرات - نیکسورا نیوز
مائیکروسافٹ ورڈ کے ایک نئے اور خطرناک ورم سے متعلق ماہرین نے انتباہ جاری کیا ہے جو کو پائلٹ کے نظام میں داخل ہو کر بڑے پیمانے پر تباہی مچا سکتا ہے۔ یہ کیڑا دستاویزات میں چھپے ہوئے سفید متن کے ذریعے خاموشی سے فائلز میں ردوبدل کر سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی کے ماہرین نے مائیکروسافٹ ورڈ سے متعلق ایک انتہائی خطرناک کیڑے یا ورم کے بارے میں شدید انتباہ جاری کیا ہے جو نہ صرف مائیکروسافٹ ورڈ کی عام فائلوں کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ مائیکروسافٹ 365 کو پائلٹ (Copilot) جیسے جدید مصنوعی ذہانت کے سسٹمز میں بھی سرایت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطرے کے تحت کوئی بھی بدنیتی پر مبنی شخص ورڈ دستاویز میں سفید متن کے اندر پوشیدہ ہدایات یا انسٹرکشنز چھپا سکتا ہے جو انسانی آنکھ کو بظاہر نظر نہیں آتی لیکن اے آئی ٹولز کے لیے پڑھنے کے قابل ہوتی ہیں۔ جب متاثرہ دستاویز کو کھولا جاتا ہے تو یہ پوشیدہ ہدایات کو پائلٹ کو خاموشی سے اس بات پر مجبور کر دیتی ہیں کہ وہ زیرِ تیاری فائل میں اپنی مرضی کی تبدیلیاں کرے اور ان ہدایات کو حتمی آؤٹ پٹ میں بھی کاپی کر دے۔
اس نئے قسم کے حملے نے دنیا بھر کے ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی اسسٹنٹس جیسے کہ کو پائلٹ کا استعمال اب کارپوریٹ سیکٹر، سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں بڑے پیمانے پر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس طرح کے ورمز پر قابو نہ پایا گیا تو یہ حساس کاروباری ڈیٹا، اہم سرکاری دستاویزات اور ذاتی معلومات کی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔ چونکہ یہ عمل مکمل طور پر خاموشی سے پس منظر میں انجام پاتا ہے، اس لیے عام صارفین یا یہاں تک کہ تجربہ کار پروفیشنلز کے لیے بھی یہ جاننا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے کہ آیا ان کا ڈیجیٹل اسسٹنٹ کسی بیرونی اثر و رسوخ کے تحت کام کر رہا ہے یا نہیں۔
ٹیکنالوجی انڈسٹری کے ماہرین نے مائیکروسافٹ اور دیگر متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس سیکیورٹی سقم کا فوری اور مؤثر حل تلاش کریں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کسی بھی قسم کے پوشیدہ یا خودکار حملوں سے محفوظ رہیں۔ اس کے علاوہ، عام صارفین اور تنظیموں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی نامعلوم یا غیر مصدقہ ورڈ دستاویز کو کھولنے اور اسے اے آئی ٹولز کے ساتھ شیئر کرنے سے پہلے انتہائی احتیاط سے کام لیں اور جدید ترین اینٹی وائرس اور سیکیورٹی پروٹوکولز کا استعمال یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی ناگہانی نقصان سے بچا جا سکے۔