LIVE
Loading Breaking News...

امریکی بیواؤں کی مالی مشکلات، چھپے ہوئے ٹیکس اور بڑھتے ہوئے بل

News Image
امریکی بیواؤں کو شوہر کے انتقال کے بعد نہ صرف جذباتی صدمے کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ انہیں شدید مالی مشکلات اور بڑھتے ہوئے بلوں کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ سنگل ٹیکس فائلنگ اور پنشن میں کمی کی وجہ سے لاکھوں بیوہ خواتین کٹھن مالی بحران کا شکار ہو جاتی ہیں۔
امریکی معاشرے میں شوہر کے انتقال کے بعد خواتین کو نہ صرف صدمے اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ ان پر مالی بحران کے پہاڑ بھی ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق شوہر کے گزر جانے کے بعد بیواؤں کی مالی حیثیت میں ڈرامائی کمی واقع ہوتی ہے اور ان کے اخراجات کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتے ہیں۔ یہ صورتحال ان لاکھوں عمر رسیدہ خواتین کے لیے انتہائی تشویشناک ہے جو اپنے شوہر کی آمدنی یا پنشن پر انحصار کرتی تھیں۔ شوہر کی وفات کے بعد گھر کا کرایہ، رہن، اور افادیت کے بل پہلے جتنے ہی رہتے ہیں لیکن آمدنی کا بڑا ذریعہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس مسئلے کا ایک اہم ترین پہلو امریکی ٹیکس نظام ہے جو بیوہ خواتین کے لیے ایک بڑے مالی جال کی حیثیت رکھتا ہے۔ شوہر کے انتقال کے بعد خواتین کو جوائنٹ فائلنگ کی بجائے سنگل ٹیکس فائلر کے طور پر ٹیکس جمع کرانا پڑتا ہے۔ اس تبدیلی کی وجہ سے ان پر ٹیکس کا بوجھ بڑھ جاتا ہے جبکہ ان کی کل آمدنی میں نمایاں کمی ہو چکی ہوتی ہے۔ اس نام نہاد 'ویڈو ٹیکس' کی وجہ سے خواتین کی بچتیں بہت تیزی سے ختم ہونے لگتی ہیں اور وہ کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل سیکیورٹی اور پنشن کے فوائد میں بھی شوہر کے جانے کے بعد کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جو جوائنٹ پنشن پلانز زندگی بھر کے لیے ہوتے ہیں، ان میں سے بعض اوقات بیوہ کے لیے ملنے والی رقم کافی کم ہوتی ہے۔ اس مالیاتی منتقلی کے دوران پیشہ ورانہ مالی مشاورتی خدمات کی عدم دستیابی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، کیونکہ بہت سی خواتین اپنے مالی معاملات خود سنبھالنے کی عادی نہیں ہوتیں۔ ماہرین معاشیات اور فلاحی اداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بیوہ خواتین کے لیے ٹیکس قوانین میں نرمی کی جائے اور انہیں مالی تحفظ فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ اگر اس سنگین مسئلے پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو آنے والے وقتوں میں بزرگ بیوہ خواتین میں غربت کی شرح میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔