LIVE
Loading Breaking News...

فلاک سرویلنس کیمرے اور جرائم کی روک تھام پر ایف بی آئی کی رپورٹ

News Image
عوام کو یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ نگرانی کے نظام میں وسعت سے پبلک سیفٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ تاہم ایف بی آئی کے حالیہ اعداد و شمار سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ یہ کیمرے جرائم کے خلاف جنگ میں غیر موثر ثابت ہو رہے ہیں۔
عوام کو ہمیشہ سے یہ یقین دلایا جاتا رہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور نگرانی کے نظام کو وسیع کرنے سے معاشرے میں جرائم کا تناسب کم ہو جائے گا اور سڑکیں زیادہ محفوظ ہو جائیں گی۔ اس مقصد کے لیے مختلف شہروں میں فلاک سرویلنس کیمرے بڑی تعداد میں نصب کیے گئے تاکہ شہریوں کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ لیکن اب وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے سامنے آنے والے اعداد و شمار نے اس دعوے پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق یہ سرویلنس کیمرے جرائم کی روک تھام میں اپنی افادیت ثابت کرنے میں بُری طرح ناکام رہے ہیں۔ ماہرین اور سول سائنسدانوں نے شروع ہی سے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ نجی اور عوامی مقامات پر وسیع پیمانے پر کیمرے لگانے سے شہریوں کی پرائیویسی متاثر ہوتی ہے اور اس کے صلے میں جو سیکیورٹی کے فوائد ملنے کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ حقیقت میں بہت کم ہوتے ہیں۔ ایف بی آئی کے حالیہ ڈیٹا نے اس خدشے کو سچ ثابت کر دیا ہے۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ان کیمروں کی موجودگی سے جرائم کی شرح میں کوئی نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آئی اور نہ ہی مجرموں کی نشاندہی اور گرفتاری میں اس ٹیکنالوجی نے کوئی انقلابی کردار ادا کیا ہے۔ اس صورتحال نے پالیسی سازوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ایک طرف جہاں عوام کی جان و مال کا تحفظ ہر حکومت کی پہلی ترجیح ہوتی ہے، وہیں دوسری طرف عوام کے بنیادی حقوق اور پرائیویسی کا تحفظ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومتوں کو اربوں روپے کی لاگت سے اس قسم کے نگرانی کے منصوبے شروع کرنے کے بجائے روایتی اور زیادہ موثر تحقیقاتی طریقوں پر توجہ دینی چاہیے جو کہ جرائم کی جڑ کو ختم کرنے میں زیادہ مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس رپورٹ کے بعد اس بات کا قوی امکان ہے کہ فلاک سرویلنس کیمروں کے استعمال پر نظرثانی کی جائے گی۔ شہری حقوق کی تنظیمیں اس ڈیٹا کو بنیاد بنا کر حکومتوں سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ عوام کی نگرانی کے اس نظام کو محدود کریں اور بجٹ کو ایسے شعبوں میں خرچ کریں جہاں حقیقی معنوں میں بہتری لائی جا سکے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اب دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس ٹیکنالوجی کے اخراجات اور اس کے عملی نتائج کا شفاف جائزہ لیں۔