LIVE
Loading Breaking News...

وینگ گارڈ وی او این جی بمقابلہ وی بی کے: ٢٠٢٦ء میں کون سا فنڈ بہتر ہے

News Image
موجودہ مالیاتی منظر نامے میں سرمایہ کار وینگ گارڈ کے بڑے ٹیکنالوجی گروتھ فنڈ اور سمال کیپ گروتھ فنڈ کے مابین بہترین متبادل کی تلاش میں ہیں۔ ماہرین کے مطابق دونوں فنڈز کی سرمایہ کاری کی حکمت عملی اور خطمول کی سطح میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں سرمایہ کاری کے لیے مختلف اشاریوں اور فنڈز کا انتخاب ہمیشہ سے سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم فیصلہ رہا ہے۔ موجودہ دور میں وینگ گارڈ رسل ١٠٠٠ گروتھ ای ٹی ایف (VONG) اور وینگ گارڈ مارننگ سٹار سمال کیپ گروتھ ای ٹی ایف (VBK) کے درمیان موازنہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آنے والے سالوں میں کون سا فنڈ زیادہ بہتر منافع بخش ثابت ہو سکتا ہے۔ وی او این جی فنڈ بنیادی طور پر میگا کیپ ٹیکنالوجی کمپنیوں میں بھاری سرمایہ کاری رکھتا ہے، جس کی وجہ سے یہ فنڈ ٹیکنالوجی سیکتور کی کارکردگی کے ساتھ براہ راست وابستہ ہے۔ اس کے برعکس، وی بی کے فنڈ کا جھکاؤ چھوٹی اور ابھرتی ہوئی ترقی پذیر کمپنیوں کی طرف ہے، جو تنوع کا ایک بہتر اور وسیع موقع فراہم کرتی ہیں۔ دوسری جانب، ان دونوں فنڈز کے اخراجات اور خطرات کا جائزہ لینا بھی انتہائی ضروری ہے۔ وی او این جی فنڈ بڑی اور مستحکم کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی وجہ سے نسبتاً کم خطرے کا حامل سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ کمپنیاں مارکیٹ کے دباؤ کو برداشت کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہیں۔ تاہم، اس میں ٹیکنالوجی کے شعبے پر انحصار بہت زیادہ ہے۔ اس کے مقابلے میں وی بی کے فنڈ میں چھوٹی کمپنیاں شامل ہونے کی وجہ سے اتار چڑھاؤ کا رجحان زیادہ ہو سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ چھوٹی کمپنیاں زیادہ تیزی سے ترقی کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔ سرمایہ کاری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر سرمایہ کار کو اپنے مالیاتی اہداف اور رسک لینے کی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی کسی ایک فنڈ کا انتخاب کرنا چاہیے۔ ٢٠٢٦ء کے تناظر میں سرمایہ کاری کی حکمت عملی بناتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا بھی اہم ہے کہ عالمی معیشت کس سمت جا رہی ہے۔ اگر شرح سود میں تبدیلیاں آتی ہیں یا ٹیکنالوجی کا شعبہ مزید ترقی کرتا ہے، تو وی او این جی جیسے فنڈز کو زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ لیکن اگر معاشی تنوع اور چھوٹے کاروباروں کو حکومتی یا مالیاتی سطح پر فروغ ملتا ہے، تو سمال کیپ ای ٹی ایف یعنی وی بی کے فنڈز سرمایہ کاروں کو حیرت انگیز منافع دے سکتے ہیں۔ اس لیے ماہرین متفق ہیں کہ دونوں فنڈز کی خصوصیات کا گہرائی سے مطالعہ کرنا اور پورٹ فولیو کو متوازن رکھنا ہی ایک کامیاب سرمایہ کاری کی اصل کنجی ہے۔