Pakistan
آزاد کشمیر انتخابات: مہاجرین کی 12 نشستوں پر 137 امیدوار امیدوار مدمقابل
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے سلسلے میں مہاجرین کی بارہ نشستوں کے لیے کل ایک سو سینتیس امیدوار انتخابی دوڑ میں شامل ہیں۔ اس مرحلے کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے سلسلے میں مہاجرین کے لیے مخصوص بارہ نشستوں پر کل ایک سو سینتیس امیدوار انتخابی دنگل میں اتر آئے ہیں۔ ان نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے اور انتخابی مہم کے دوران گہما گہمی عروج پر رہی ہے۔ اس عمل کے دوران مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بیانات اور دعووں کا سلسلہ بھی جاری ہے تاکہ ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کیا جا سکے۔
انتخابی عمل کے دوسرے مرحلے کے دوران کچھ حلقوں سے تقابل اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابات کے اس مرحلے میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جس سے سیاسی ماحول میں مزید گرم جوشی پیدا ہو گئی ہے۔ دوسری جانب حکمران اور دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے شفاف اور منصفانہ عمل کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہے۔
مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ کشمیری مہاجرین کے حقوق اور ان کی نمائندگی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں خطے کی سیاست میں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اور ان پر کامیابی حاصل کرنے والی جماعت کو جموں و کشمیر کی اسمبلی میں اضافی اہمیت حاصل ہوگی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان نشستوں کے نتائج آنے والے وقت میں خطے کی مجموعی سیاسی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔
انتخابی حلقوں میں پولنگ کا عمل پرامن طریقے سے مکمل کرانے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ووٹرز کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اپنے جمہوری حقوق کے استعمال میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور وہ اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنے کے لیے پرجوش ہیں۔ حتمی نتائج کے اعلان کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ کون سی جماعت مہاجرین کی ان اہم نشستوں پر سب سے زیادہ کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔