World
مشی گن انتخاب: عبداللہ السید اور اے پیک کی سیاست پر خصوصی رپورٹ
اسرائیل نواز لابی گروپ اے پیک نے مشی گن میں عبداللہ السید کے خلاف ہیلی اسٹیوینس کی انتخابی مہم میں بھاری فنڈنگ کی ہے۔ اس سیاسی سرمایاکاری کا مقصد ترقی پسند امیدوار کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے۔
امریکہ میں جاری سیاسی ہلچل کے درمیان مشی گن کی سینیٹ کی نشست کے لیے ہونے والے انتخابات میں اسرائیل نواز طاقتور لابی گروپ 'اے پیک' (AIPAC) کی جانب سے بھاری سرمایاکاری کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس بااثر لابی نے ترقی پسند نظریات کے حامل ڈاکٹر عبداللہ السید کو شکست دینے اور ان کی حریف ہیلی اسٹیوینس کی انتخابی مہم کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی مالی طاقت کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس اقدام کو مش مشی گن کی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اے پیک کی جانب سے یہ فنڈنگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی سیاست میں ترقی پسند آوازیں اور خاص طور پر مش مشرق وسطیٰ کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے امیدوار تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عبداللہ السید اپنی صحت عامہ کی خدمات اور ترقی پسند سیاسی ایجنڈے کی وجہ سے کافی مشہور ہیں۔ تاہم پرو اسرائیل گروپوں کی طرف سے ان کے خلاف کروڑوں ڈالر کی تشہیری مہم چلائی گئی ہے تاکہ رائے دہندگان کو متاثر کیا جا سکے اور ہیلی اسٹیوینس کا پلڑا بھاری کیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی مالی مداخلت امریکی انتخابی عمل میں اثر و رسوخ کے حوالے سے طویل عرصے سے بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ اے پیک جیسی تنظیمیں اکثر ایسے امیدواروں کی حمایت کرتی ہیں جو اسرائیل کے حق میں سخت مؤقف رکھتے ہیں اور امریکی خارجہ پالیسی میں تل ابیب کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عبداللہ السید جیسے ترقی پسند امیدواروں کو اس مالیاتی دباؤ کا سامنا کرنے کے لیے اپنی نچلی سطح کی حمایت اور عوام کے عطیات پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا روایتی لابیوں کی یہ بھاری سرمایاکاری مشی گن کے ووٹرز کے فیصلے کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔ عامتہ الناس میں اس صورتحال پر ملا جلا ردعمل پایا جا رہا ہے جہاں کچھ حلقے اسے سیاسی شفافیت کے خلاف قرار دے رہے ہیں، وہیں انتخابی مبصرین کے مطابق یہ امریکی جمہوریت میں مفاد پرست گروپوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کا ایک اور منہ بولتا ثبوت ہے۔