World
امریکی امیگریشن پالیسی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات پر نیا پول
ایک نئے رائے عامہ کے جائزے کے مطابق نصف امریکیوں کا ماننا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ملک بدری کے اقدامات میں بہت سختی کی گئی ہے۔ تاہم، ریپبلکن پارٹی کے حامیوں کی اکثریت اب بھی ان کی اس سخت پالیسی کی بھرپور حمایت کر رہی ہے۔
امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نافذ کردہ سخت امیگریشن پالیسیوں اور تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر ملک بدری کے اقدامات کے حوالے سے ایک نیا رائے عامہ کا سروے سامنے آیا ہے۔ اس سروے کے مطابق، امریکہ کے تقریباً نصف عوام کا یہ ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ملک بدری کے معاملات میں حد سے زیادہ سختی سے کام لیا ہے اور وہ اس معاملے میں بہت آگے نکل گئے ہیں۔ اس صورتحال نے ملک میں سیاسی اور سماجی حلقوں کے درمیان جاری بحث کو مزید گرما دیا ہے، جہاں ایک طرف انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ناقدین ان اقدامات پر شدید تنقید کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف انتظامیہ کے حامی اسے ملکی سلامتی اور قانون کی بالادستی کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب، سروے کے تفصیلی نتائج سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اگرچہ عام امریکی آبادی کی ایک بڑی تعداد ان سخت اقدامات سے پریشان ہے، لیکن ریپبلکن پارٹی کے رجسٹرڈ ووٹرز اور روایتی حامیوں کی ایک واضح اکثریت اب بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے اس سخت گیر طرزِ عمل کی بھرپور تائید کر رہی ہے۔ ریپبلکن حلقوں میں یہ خیال عام ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کا مسئلہ ملک کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے جارحانہ پالیسیاں اپنانا ناگزیر ہے۔ اس سیاسی تقسیم نے آنے والے دنوں میں ملکی سیاست اور آئندہ کی پالیسی سازی پر گہرے اثرات مرتب کرنے کے امکانات روشن کر دیے ہیں، کیونکہ عوام کی آراء اس معاملے پر دو واضح حصوں میں تقسیم نظر آتی ہیں۔