LIVE
Loading Breaking News...

آزاد کشمیر انتخابات دوسرا مرحلہ: پی پی پی کے دھاندلی کے الزامات

News Image
آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران مظفرآباد ڈویژن اور مہاجر حلقوں میں پولنگ مکمل ہو گئی ہے۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ ن پر دھاندلی اور ووٹ چرانے کے شدید الزامات عائد کیے ہیں۔
آزاد جموں و کشمیر (آج کُشمیر) میں انتخابات کے دوسرے مرحلے کا عمل اتوار کے روز سخت سکیورٹی اور مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ کے سائے میں اختتام پذیر ہو گیا۔ پولنگ کا یہ عمل مظفرآباد ڈویژن کے نو میں سے آٹھ حلقوں اور تمام بارہ مہاجر حلقوں میں منعقد ہوا۔ مہاجر نشستوں کے لیے صبح آٹھ بجے شروع ہونے والی پولنگ شام پانچ بجے تک جاری رہی، جبکہ مظفرآباد میں ایک گھنٹے کی توسیع کے بعد پولنگ کا عمل شام چھ بجے ختم ہوا۔ آزاد کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر غلام مصطفی مغل کے مطابق، خراب موسم اور شدید بارشوں کے باعث حلقہ ایل اے 27 (مظفرآباد-1) میں انتخابی عمل التوا کا شکار ہوا جہاں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے انتخابی سامان بروقت نہیں پہنچایا جا سکا۔ اس حلقے اور ایل اے 28 کے کچھ پولنگ سٹیشنز پر اب پولنگ چار اگست کو ہو گی۔ انتخابی عمل کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ ن پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکمران جماعت نے ایک بار پھر ووٹ چوری کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے ایک بیان اور سوشل میڈیا پوسٹ میں پارٹی کے علاقائی صدر اور حلقہ ایل اے 31 سے امیدوار چوہدری لطیف اکبر پر مبینہ حملے کی شدید مذمت کی۔ بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ اس پرتشدد واقعے میں پی پی پی کا ایک کارکن مشتاق شاہ جاں بحق ہو گیا ہے، جبکہ مسلم لیگ ن کے غنڈہ عناصر کی جانب سے دھونس اور دھاندلی کا بازار گرم کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث افراد اور کارکن کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ دریں اثنا، آزاد کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری اور پولیس چیف کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔ دوسری جانب، الیکشن کمیشن کے حکام نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ قانون کے مطابق اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور کسی بھی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ سکیورٹی خدشات اور انتظامی امور کو مدنظر رکھتے ہوئے انتخابات تین مختلف مراحل میں منعقد کیے جا رہے ہیں، جس کا پہلا مرحلہ 27 جولائی کو میرپور ڈویژن میں ہوا تھا جبکہ تیسرا اور آخری مرحلہ 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں طے شدہ ہے۔ پولنگ کے دوران مظفرآباد ڈویژن میں کئی ہفتوں سے معطل انٹرنیٹ سروس بھی بحال کر دی گئی تاکہ انتخابی عمل میں آسانی پیدا کی جا سکے۔ ابتدائی اور غیر حتمی نتائج کے مطابق مختلف حلقوں میں پی پی پی اور مسلم لیگ ن کے درمیان کانٹے کا مقابلہ جاری ہے۔ کچھ حلقوں میں مسلم لیگ ن کو برتری حاصل ہے تو کہیں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار آگے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر بعض مقامات پر تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انتخابی عمل کے پرامن اور منصفانہ انعقاد کے لیے انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے، تاہم وقتاً فوقتاً سامنے آنے والے تنازعات نے سیاسی ماحول کو گرائے رکھا۔