Technology
مشی گن اور منیسٹا میں واٹر سسٹمز پر سائبر حملے
امریکہ کی ریاست مشی گن نے منیسٹا کے بعد اپنے واٹر سسٹمز پر سائبر حملوں کی تصدیق کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کے باوجود تمام آبی نظام مکمل طور پر محفوظ انداز میں کام کر رہے ہیں۔
امریکہ میں ریاست مشی گن بھی ان علاقوں میں شامل ہو گئی ہے جہاں پانی کے نظام کو سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سے قبل ریاست منیسٹا میں بھی اس نوعیت کے حملوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جن نے ملک بھر کے اہم بنیادی ڈھانچے کی سکیورٹی پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ حکام کے مطابق مشی گن میں کم از کم نو واٹر سسٹمز کو اس ڈیجیٹل حملے کی زد میں لایا گیا، تاہم فوری اور موثر ردعمل کے باعث کسی بھی قسم کے بڑے نقصان سے بچنے میں مدد ملی۔
ریاستی اور وفاقی حکام اس معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ اس حملے کے محرکات اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ کے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس اور دیگر اہم شہری انفراسٹرکچر طویل عرصے سے ہیکرز کے نشانے پر رہے ہیں، کیونکہ ان پرانے سسٹمز میں ڈیجیٹل حفاظتی دیواریں اتنی مضبوط نہیں ہوتیں۔ اس طرح کے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سائبر سکیورٹی کے شعبے میں مزید فوری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
حکام نے پریس کانفرنس کے دوران عوام کو یقین دلایا ہے کہ حملے کے باوجود ریاست کا تمام پانی کا نظام بحفاظت کام کر رہا ہے اور پانی کے معیار یا اس کی فراہمی میں کوئی تعطل نہیں آیا۔ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے عملے کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی مزید غیر مجاز رسائی یا ممکنہ خطرے کو فوری طور پر روکا جا سکے۔ متعلقہ ادارے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں کہ مستقبل میں اس طرح کی مداخلتوں کو مؤثر طریقے سے روکا جا سکے۔