Business
نیویارک میں سیلف چیک آؤٹ پر 10 فیصد ڈسکاؤنٹ کی نئی قانون سازی
نیویارک کے قانون سازوں نے فوڈ اسٹورز پر خودکار چیک آؤٹ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے 10 فیصد رعایت کا بل پیش کیا ہے۔ اس تجویز کا مقصد صارفین کو اس محنت کا معاوضہ دینا ہے جو وہ کیشئر کے بغیر خود انجام دیتے ہیں۔
امریکی ریاست نیویارک کے ڈیموکریٹک قانون سازوں نے ایک نیا اور منفرد بل ایوان میں پیش کیا ہے جس کے تحت فوڈ ریٹیلرز اور گروسری اسٹورز پر سیلف چیک آؤٹ کا استعمال کرنے والے صارفین کو بل پر دس فیصد رعایت دی جائے گی۔ اس قانون سازی کا بنیادی مقصد عام خریداروں کو اس مالی اور جسمانی ریلیف سے نوازنا ہے جو وہ اسٹور پر خریداری کے دوران خود کام کرکے حاصل کرتے ہیں۔ اس وقت ریاست بھر میں صارفین کی ایک بڑی تعداد اس بات پر شاکی ہے کہ جو کام پہلے کیشئر یا اسٹور کا عملہ انجام دیتا تھا، اب وہ تمام تر ذمہ داری اور مشقت خریدار کے کِھسکا دی گئی ہے لیکن اس کے بدلے میں انہیں کوئی معاوضہ یا رعایت نہیں دی جاتی۔
پیش کردہ بل کے محرکات میں صارفین کی وہ شکایات سرفہرست ہیں جن میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ وہ قطاروں میں خود کھڑے ہو کر اشیاء کو اسکین کرتے ہیں، ان کے بارکوڈ تلاش کرتے ہیں اور بیگنگ کا عمل بھی خود مکمل کرتے ہیں۔ اس تمام عمل میں خریدار کا قیمتی وقت بھی صرف ہوتا ہے اور ذہنی مشقت بھی الگ سے درکار ہوتی ہے۔ قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ کمپنیاں کیشئرز کی تنخواہوں کی مد میں بھاری بچت کر رہی ہیں، اس لیے اس بچت کا ایک حصہ براہِ راست عوام تک بھی پہنچنا چاہیے تاکہ وہ خودکار نظام کو استعمال کرنے پر آمادہ ہوں۔
اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو اس سے نیویارک کے فوڈ ریٹیل سیکٹر میں ایک بہت بڑی تبدیلی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ بڑے سپر مارکیٹس اور گروسری چینز کو اپنے بلنگ سسٹمز اور قیمتوں کے تعین کے طریقوں میں ترامیم کرنا ہوں گی۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس قانون کے نفاذ سے جہاں ایک طرف صارفین کو براہِ راست مالی فائدہ ہوگا، وہیں دوسری طرف خوردہ فروشی کے کاروبار پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ صارفین کے ساتھ منصفانہ رویہ اپنائیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ نیویارک کی قانون ساز اسمبلی میں اس بل پر بحث کے دوران ریپبلکن پارٹی اور کاروباری حلقوں کی طرف سے کیا ردعمل سامنے آتا ہے۔ تجارتی تنظیمیں پہلے ہی اس قسم کے ضوابط کو کاروبار کے لیے مشکل قرار دے چکی ہیں، جب کہ عام عوام اور صارفین کے حقوق کے ادارے اس بل کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں اس بل کی منظوری یا تردید کے حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہے۔