LIVE
Loading Breaking News...

ہینک گرین کا اے آئی چیٹ بوٹس کے استعمال پر تشویش کا اظہار

News Image
مشہور یوٹیوبر اور ناول نگار ہینک گرین نے اپنے ناظرین سے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا اے آئی چیٹ بوٹس پر بڑھتا ہوا انحصار اب کسی بھی طرح صحت مند نہیں رہا ہے۔ انہوں نے اپنی ڈیجیٹل مصروفیت اور خیالات کے اظہار کے لیے مصنوعی ذہانت کے حد سے زیادہ استعمال پر کھل کر بات کی ہے۔
مشہور امریکی یوٹیوبر، مزاح نگار اور ناول نگار ہینک گرین نے، جن کے یوٹیوب پر 3.2 ملین سے زائد سبسکرائبرز ہیں، حال ہی میں اپنے ناظرین سے اس بات پر معافی مانگی ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت (AI) کے چیٹ بوٹس پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں۔ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے اپنی گفتگو اور مواد کی تیاری کے دوران اے آئی ٹولز کے استعمال میں اضافے کا اعتراف کیا۔ ہینک گرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں ٹیکنالوجی کی یہ تیزی سے بڑھتی ہوئی عادت اب ایک غیر صحت مند شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، جو کہ انسانی تخلیقیت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ہینک گرین نے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح اے آئی نے ان کے روزمرہ کے کاموں اور سوچنے کے انداز کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان کے مطابق، چیٹ بوٹس کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے اور ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے ان پر انحصار کرنے سے انسان کی اپنی سوچنے کی صلاحیت اور تخلیقی صلاحیتیں زنگ آلود ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اگرچہ یہ ٹولز کام کو آسان بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن ان کا حد سے زیادہ استعمال انسانی رویوں اور ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پوری دنیا میں مصنوعی ذہانت کے عروج اور اس کے اخلاقی و سماجی اثرات پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ ماہرین ٹیکنالوجی بھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اے آئی کو ایک معاون آلے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے نہ کہ انسانی عقل کا مکمل متبادل۔ ہینک گرین کے اس اعتراف کو ان کے مداحوں اور تکنیکی حلقوں میں بہت سراہا گیا ہے، کیونکہ یہ ٹیکنالوجی کے منفی اثرات پر کھل کر بات کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔