LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا ایران سے معاہدے کا اشارہ، حملے منسوخ

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مجوزہ حملے منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے بشرطیکہ تہران کے ساتھ جلد از جلد کوئی معاہدہ طے پا جائے۔ اس غیر متوقع پیشرفت نے خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ کے بادلوں کے درمیان نئی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے اپنے سابقہ منصوبے کو عارضی طور پر موخر یا منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم انہوں نے اس بات مشروط کیا ہے کہ اگر تہران کے ساتھ کوئی جامع اور فوری معاہدہ طے پا جاتا ہے تو تنازع کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے۔ اس اعلان نے خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان سفارتی کوششوں کو ایک نیا موڑ دے دیا ہے۔ بی بی سی اور سی این این سمیت مختلف بین الاقوامی نشریاتی اداروں کی لائیو اپ ڈیٹس میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے اس ممکنہ 'ڈیل' کے اشارے کے بعد واشنگتن اور تہران کے درمیان آئندہ کے لائحہ عمل پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ تجزیہ کار اس پیشرفت کو مخلوط جذبے سے دیکھ رہے ہیں؛ ایک طرف جہاں اسے جنگ کے خطرات کو ٹالنے کی ایک اور کوشش قرار دیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف اس کی پائیداری اور ایران کے ممکنہ ردعمل کے حوالے سے شدید شکوک و شبہات بھی پائے جاتے ہیں۔ روئٹرز اور الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کسی بھی نئے حملے کو اس امید پر روکے ہوئے ہے کہ دونوں فریقین کے مابین جلد از جلد مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر معاملات کو خوش اسلوبی سے سلجھایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک اچھے معاہدے کے حصول کے لیے فریقین کو تیزی سے کام کرنا ہوگا، بصورت دیگر صورتحال دوبارہ خراب ہو سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایرانی قیادت اس پیشکش کو کس نگاہ سے دیکھتی ہے اور آیا تہران واشنگتن کے ساتھ براہ راست یا کسی ثالث کے ذریعے بات چیت کے لیے آمادہ ہوتا ہے یا نہیں۔ دنیا بھر کے سفارتی حلقے اس وقت اس صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ مشرق وسطیٰ کا امن براہ راست اس نازک سفارتی موڑ سے وابستہ ہے۔