World
نেন্সি گتھری اغوا کیس: تاوان کے خطوط تفتیش میں کیسے مدد کر سکتے ہیں
ماہرینِ لسانیات کا کہنا ہے کہ تاوان کے خطوط سے مجرم کی شناخت میں مدد مل سکتی ہے۔ چند جملوں سے بھی ملزم کے بارے میں اہم معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق نেন্সি گتھری کے اغوا کیس میں تفتیش کو آگے بڑھانے کے لیے جدید سائنسی اور فارنزک طریقوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ماہرینِ لسانیات کا کہنا ہے کہ اگر مجرم کی طرف سے کوئی تاوان کا خط یا تحریری پیغام موصول ہوتا ہے، تو وہ کیس کا رخ بدلنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایک ماہرِ فارنزک لسانیات نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ محض چند جملوں سے بھی کسی شخص کی شناخت اور اس کے پس منظر کے بارے میں انتہائی اہم معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ہر انسان کے لکھنے کا انداز، الفاظ کا انتخاب، گرامر کا استعمال اور جملوں کی ساخت منفرد ہوتی ہے۔ اسے لسانی فنگر پرنٹ بھی کہا جاتا ہے جس کی مدد سے تفتیش کار یہ جان سکتے ہیں کہ مشتبہ شخص کس علاقے سے تعلق رکھتا ہے، اس کا تعلیمی معیار کیا ہے یا پھر اس کی عمر اور سماجی پس منظر کیا ہو سکتا ہے۔ اس تکنیک کی مدد سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملزم کا دائرہ کار محدود کرنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔
نেন্সি گتھری کیس میں حکام تمام ممکنہ زاویوں سے تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ جلد از جلد اصل مجرم تک پہنچا جا سکے۔ پولیس اور تفتیشی ٹیمیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ ڈیجیٹل اور تحریری شواہد کو باریک بینی سے جانچا جائے کیونکہ ایسے کیسوں میں معمولی تفصیلات بھی بہت بڑا سراغ ثابت ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مجرم کی جانب سے استعمال کیے جانے والے الفاظ اکثر و بیشتر اس کے لاشعوری رویے کی عکاسی کرتے ہیں جو تفتیش کاروں کو درست سمت میں لے جانے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔