Sports
باکسنگ میں متنازع فیصلے اور مصنوعی ذہانت کا کردار
کامن ویلتھ گیمز میں انگلینڈ کے ڈیمیجی شٹو کی متنازع شکست کے بعد باکسنگ کے کھیلوں میں ججوں کے فیصلوں پر ایک بار پھر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ماہرین اور سابق چیمپیئنز نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انسانی غلطیوں کے ازالے کے لیے اب مصنوعی ذہانت پر مبنی ججنگ سسٹم کو متعارف کرانے کا وقت آ گیا ہے۔
باکسنگ کی دنیا میں متنازع فیصلوں کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ خود یہ کھیل۔ حال ہی میں کامن ویلتھ گیمز کے دوران انگلینڈ کے مکی باکسر ڈیمیجی شٹو کو ایک انتہائی متنازع فیصلے کے بعد سلور میڈل پر اکتفا کرنا پڑا، جس کے بعد کھیلوں کے مبصرین اور سابق چیمپئنز نے اس نظام پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ سابق چیمپئن رچی ووڈ ہال نے اس فیصلے کو حیران کن اور مکمل طور پر ناانصافی قرار دیا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اس دیرینہ بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا اب وقت آ گیا ہے کہ باکسنگ کے روایتی ججنگ سسٹم کو تبدیل کر کے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) ججز کو لایا جائے؟ کھیل کے اندر اس بات پر اتفاق بڑھ رہا ہے کہ انسانی ججوں کی طرف سے کی جانے والی غلطیاں یا جان بجانب کیے جانے والے جانبدارانہ فیصلے کھلاڑیوں کی برسوں کی محنت پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پنچز کی طاقت، درستگی اور تعداد کا درست تخمینہ لگایا جا سکتا ہے، جس سے انسانی تعصب کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔ اگرچہ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ باکسنگ جیسی جنگی کھیتوں میں جذبات اور حکمت عملی کو سمجھنے کے لیے انسان کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن بڑھتے ہوئے تنازعات نے ٹیکنالوجی کے حامیوں کو مضبوط دلائل فراہم کر دیے ہیں۔ شٹو کے واقعے کے بعد اب متعلقہ سپورٹس بورڈز پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ کھیلوں میں شفافیت لانے کے لیے ڈیجیٹل اور اے آئی سسٹمز کے استعمال پر سنجیدگی سے غور کریں۔ اگر مستقبل میں مصنوعی ذہانت کو باکسنگ ججنگ کا حصہ بنایا جاتا ہے، تو یہ کھیل کی تاریخ میں ایک بہت بڑا انقلابی قدم ہوگا، جو نہ صرف انصاف کے تقاضے پورے کرے گا بلکہ شائقین کا اعتماد بھی بحال کرے گا۔