LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا جنگ بندی معاہدے کا دعوی، ایران اور اسرائیل میں الرٹ جاری

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے میں پیشرفت کے دعوے کے بعد خطے میں کشیدگی کم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ تہران اور تل ابیب میں سکیورٹی فورسز کو انتہائی درجے کے الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناگپہانی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
واشنگٹن پوسٹ اور دیگر عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اس شرط پر ایران پر حملے منسوخ کر رہے ہیں کہ یہ معاہدہ انتہائی تیزی سے طے پا جائے۔ تاہم ان اعلانات کے باوجود زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے اور دونوںممالک کی عسکری قیادت کسی بھی ممکنہ تصادم کے پیش نظر ہائی الرٹ پر ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے حملے روکے جانے کے بعد ایران جنگ کے مذاکرات کے حوالے سے نئی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، جبکہ سی این این اور الجزیرہ جیسی خبر رساں ایجنسیوں نے بھی اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت خطے میں سفارتی سطح پر بھی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں اور پس پردہ رابطے جاری ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کی ایک رپورٹ کے مطابق تہران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر عمان کے توسط سے ایران اور دیگر فریقین کے درمیان مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس دوران دونوںممالک کے عسکری حلقے کسی بھی پیشرفت یا اچانک پلٹنے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ عالمی برادری اس تمام صورتحال کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے اور اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی طاقتیں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔