World
ماسکو ریستوران دھماکہ: تین افراد ہلاک، اکیس زخمی
روس کے دارالحکومت ماسکو کے ایک مرکزی ریستوران کے قریب ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور اکیس زخمی ہو گئے ہیں۔ مقامی حکام اور سیکیورٹی اداروں کے مطابق دھماکے کی نوعیت اور وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
روس کے دارالحکومت ماسکو کے ایک مرکزی ریستوران کے قریب پیش آنے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور اکیس زخمی ہو گئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور اس کے قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک خودکش حملے کا نتیجہ ہو سکتا ہے جس میں ایک خاتون کے ملوث ہونے کے شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں، تاہم حتمی تفصیلات فرانزک رپورٹس اور تحقیقات کے مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس اور ایمرجنسی سروسز کے اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ زخمی ہونے والے تمام افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ طبی عملے کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے کیونکہ بعض زخمیوں کو انتہائی نگداشت کے وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ اس دوران سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کرتے ہوئے ماسکو کے حساس علاقوں میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب عالمی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اس حملے کا ہدف ممکنہ طور پر یوکرین کے کمانڈر انچیف چائکا ہو سکتے ہیں، تاہم روسی حکام کی جانب سے اس بابت باضابطہ طور پر تادم تحریر کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیمیں اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہیں کہ دھماکہ خیز مواد کہاں سے لایا گیا اور اس کے پیچھے کون سے عناصر کارفرما تھے۔ روسی صدر اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے اس لرزہ خیز واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور اس بات کا عزم ظاہر کیا ہے کہ دہشت گردی کے اس گھناؤنے فعل میں ملوث تمام ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ شہر بھر میں سیکیورٹی کے نئے اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔