Sports
کامن ویلتھ گیمز 2026 کا مستقبل اور گلاسگو کی کامیابی
گلاسگو میں منعقد ہونے والے کامن ویلتھ گیمز کو محدود پیمانے پر بڑی کامیابی قرار دیا گیا ہے، تاہم عالمی سطح پر اس ایونٹ کے طویل مدتی مستقبل اور مالیاتی چیلنجز کے حوالے سے اب بھی شدید شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کامیابی کے باوجود گیمز کی بقا کے لیے کوئی حتمی ضمانت موجود نہیں ہے۔
اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز 2026 کو اگرچہ وقتی طور پر ایک شاندار اور خوش آئند کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، لیکن کھیلوں کے اس تاریخی ایونٹ کے مجموعی اور طویل مدتی مستقبل کے بارے میں پائے جانے والے خدشات ابھی تک ختم نہیں ہو سکے۔ منتظمین اور شائقین کے لیے یہ مقابلے ایک بہترین تجربہ ثابت ہوئے، مگر اس کے ساتھ ہی مستقبل کے ایڈیشنز کے لیے فنڈنگ، میزبان ممالک کی عدم دلچسپی اور مالی پائیداری جیسے سنگین مسائل بدستور اپنی جگہ موجود ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گلاسگو کا یہ ایونٹ تنہا تو ایک روشن مثال بن گیا ہے، لیکن یہ آنے والے برسوں کے لیے کوئی مستقل ضمانت فراہم نہیں کرتا۔ دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے مالی اخراجات اور بڑے کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد سے ہچکچاہٹ کی وجہ سے کامن ویلتھ گیمز جیسی بڑی تقریبات کے لیے میزبان تلاش کرنا ایک کٹھن مرحلہ بن چکا ہے۔ ماضی کی طرح اب حکومتیں اور ادارے اس قسم کے اربوں ڈالر کے منصوبوں پر کھل کر سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔
کھیلوں کی دنیا میں یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ اگر کامن ویلتھ گیمز کو زندہ رکھنا ہے تو اس کے فارمیٹ میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ کم بجٹ، موجودہ انفراسٹرکچر کا بہتر استعمال اور کھیلوں کے مقابلوں کو زیادہ موثر بنانا ہی اس کی بقا کا واحد راستہ ہو سکتا ہے۔ گلاسگو کی کامیابی نے وقتی طور پر امید کی کرن ضرور دکھائی ہے، مگر حقیقت پسندانہ جائزہ یہی کہتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں اس کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے سخت اور انقلابی فیصلے کرنا ہوں گے۔