World
لبنان میں کیتھولک خانقاہ کی تعمیر نو، رضاکاروں کا اقدام
لبنان کے علاقے زوطر الغربی میں بین المذاہب رضاکاروں نے جنگ کے دوران تباہ ہونے والے ایک کیتھولک مٹھ یا خانقاہ کی تعمیر نو کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی سطح پر مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہے۔
لبنان کے جنوبی علاقے زوطر الغربی میں انسانی ہمدردی اور بین المذاہب رواداری کی ایک شاندار مثال سامنے آئی ہے جہاں مقامی رضاکاروں نے جنگ کے دوران بری طرح تباہ ہونے والی ایک کیتھولک خانقاہ کی تعمیر نو کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اس پرجوش اقدام میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ عمارت کی مرمت کا کام بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ خانقاہ حالیہ تنازعات اور جنگی کارروائیوں کے نتیجے میں شدید نقصان کا شکار ہوئی تھی جس سے مقامی مسیحی برادری کو گہرا صدمہ پہنچا تھا۔ تاہم، علاقائی باشندوں اور رضاکاروں کی جانب سے اس کی بحالی کے اس اقدام نے جنگ زدہ علاقے میں امید کی ایک نئی کرن پیدا کر دی ہے۔ رضاکاروں کا ماننا ہے کہ ایسی تاریخی اور مذہبی عماارتیں صرف پتھر اور چونے کا ڈھانچہ نہیں ہوتیں بلکہ یہ مختلف برادریوں کے مابین امن، رواداری اور باہمی احترام کی علامت ہوتی ہیں۔
تعمیر نو کے اس عمل کے دوران رضاکاروں نے دن رات محنت کرکے عمارت کے گرنے والے حصوں کو دوبارہ اٹھانے کا کام شروع کیا ہے۔ اس منصوبے نے نہ صرف تباہ شدہ انفراسٹرکچر کو بحال کرنے میں مدد دی ہے بلکہ اس سے معاشرتی سطح پر بھی اتحاد اور یکجہتی کا ایک طاقتور پیغام گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی سرگرمیاں معاشرے میں نفرتوں کو مٹانے اور باہمی میل جول کو بڑھانے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
اس بین المذاہب تعاون کو عالمی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے کیونکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی انسانیت، محبت اور امن کے جذبے کو زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ رضاکاروں کا عزم ہے کہ وہ اس تاریخی خانقاہ کو اس کی اصل شکل میں بحال کریں گے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس ثقافتی ورثے اور مذہبی مرکز سے فیضیاب ہو سکیں۔