LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل کو بھارتی اسلحے کی فروخت: حقیقت پسندی یا اخلاقی زوال

News Image
امنیسٹی انٹرنیشنل نے اپنی نئی تحقیقات میں انتباہ جاری کیا ہے کہ اسرائیل کو اسلحے کی مسلسل برآمدات غزہ میں جاری نسل کشی میں شرکت کے مترادف ہو سکتی ہیں۔ دوسری جانب، بھارتی وزارتِ خارجہ نے دفاعی برآمدات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کا اسٹریٹجک تجارت پر ایک مضبوط قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک موجود ہے۔
بھارت کی جانب سے اسرائیل کو اسلحے کی مسلسل برآمدات نے ایک بار پھر بین الاقوامی اور ملکی سطح پر شدید بحث کو جنم دے دیا ہے۔ مبصرین اس صورتحال کو حقیقت پسندی اور نظریاتی ہم آہنگی کے تنازع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی امنیسٹی انٹرنیشنل کی ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انتباہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو دفاعی سازوسامان کی فراہمی جاری رکھنا غزہ میں جاری انسانی بحران اور ممکنہ نسل کشی میں طشت از بام یا براہِ راست شرکت کا خطرہ مول لینے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے فوری طور پر ایسی ترسیلات کو روکا جائے۔ اس تنازع کے دوران بھارت کے اندر بھی سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔ کانگریس کے رہنما پون کھیڑا نے موجودہ نریندر مودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت غزہ کے معاملے پر بھارت کی دیرینہ اخلاقی میراث اور اصولوں پر سمجھوتہ کر رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ دہلی کی جانب سے تزویراتی تعلقات کو انسانی حقوق اور عالمی سطح پر امن کے اصولوں پر ترجیح دی جا رہی ہے، جو کہ ملک کی روایتی خارجہ پالیسی کے برعکس ہے۔ دوسری جانب، بھارتی وزارتِ خارجہ (ایم ای اے) نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اپنے دفاعی موقف کی وضاحت کی ہے۔ وزارت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارت کا اسٹریٹجک تجارت اور دفاعی برآمدات کے حوالے سے ایک انتہائی مضبوط، شفاف اور قانونی ریگولیٹری فریم ورک موجود ہے۔ تمام تر برآمدات بین الاقوامی معیارات اور ضابطوں کے عین مطابق کی جاتی ہیں اور ملک کی خارجہ پالیسی کے قومی مفادات کو ہر صورت مقدم رکھا جاتا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور دنیا بھر کے انسانی حقوق کے ادارے اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والے ممالک کو کٹہرے میں کھڑا کر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر سفارتی دباؤ میں مزید اضافے کا امکان ہے، جبکہ بھارتی حکومت پر بھی اندرونی اور بیرونی محاذوں پر اپنے فیصلوں کا دفاع کرنے کا چیلنج برقرار رہے گا۔