World
مراکش کا شاہی بیان، مغربی صحارا کی خودمختاری اور امریکی صدر ٹرمپ
مراکش کے شاہی دفتر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مراکش کی مغربی صحارا پر خودمختاری کے اعادہ پر ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
واشنگٹن میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق مراکش کے شاہی دفتر نے حال ہی میں ایک اہم بیان جاری کیا ہے جو کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے شاہ محمد ششم کے نام بھیجے گئے ایک خصوصی پیغام کے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ پیغام یومِ تخت (تھ론 ڈے) کی ستائیسویں سالگرہ کے موقع پر بھیجا گیا تھا جس میں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا گیا۔ شاہی دفتر کے اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین اسٹریٹجک شراکت داری خطے کی ترقی اور سلامتی کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
بیان میں اس بات پر خصوصی روشنی ڈالی گئی ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر مغربی صحارا کے خطے پر مراکش کی خودمختاری کی بھرپور تائید کی ہے۔ امریکی صدارت کی طرف سے اس مؤقف کا اعادہ دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات اور سفارتی ہم آہنگی کا مظہر ہے۔ مراکش کی حکومت اور عوام نے اس عزم کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے کیونکہ یہ خطے میں پائیدار امن، خوشحالی اور علاقائی سالمیت کے حصول کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق، یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سفارتی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ امریکہ اور مراکش کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور مضبوط تعلقات استوار رہے ہیں، جنہیں دفاعی، اقتصادی اور سیاسی سطح پر مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ اس تازہ ترین سفارتی پیشرفت سے دونوں ممالک کے باہمی اعتماد میں مزید اضافہ ہوگا اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی تعاون کے نئے در وا ہوں گے۔
مراکش کے شاہی دفتر کی جانب سے جاری کردہ اس بیان کے بعد عالمی سطح پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان مزید ملاقاتیں متوقع ہیں جن میں تجارتی اور سکیورٹی معاہدوں کو حتمی شکل دی جائے گی۔ عوام اور سیاسی حلقوں کی جانب سے اس پیشرفت کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے اور اسے خطے کے روشن مستقبل کی ضمانت قرار دیا جا رہا ہے۔