Entertainment
جے لینو نے عملے کے تحفظ کے لیے پندرہ ملین ڈالر کی تنخواہ چھوڑی
معروف امریکی میزبان جے لینو نے 'دی ٹونائٹ شو' کے عملے کی نوکریاں بچانے کے لیے اپنی تنخواہ میں پندرہ ملین ڈالر کی بڑی کٹوتی قبول کرلی تھی۔ انہوں نے اس دوران اپنے اسٹینڈ اپ شوز کی کمائی پر گزارہ کیا اور شو کے چیکس کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔
امریکی ٹی وی کے معروف میزبان اور کامیڈین جے لینو کے بارے میں ایک حیرت انگیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ انہوں نے اپنے مشہور زمانہ پروگرام 'دی ٹونائٹ شو' کے پروڈکشن عملے کو نوکری سے نکالے جانے سے بچانے کے لیے اپنی تنخواہ میں پندرہ ملین ڈالر کی بھاری کٹوتی قبول کرلی تھی۔ اس اقدام کا مقصد اسٹوڈیو کے عام ورکرز اور اسٹاف کے روزگار کا تحفظ یقینی بنانا تھا تاکہ مالی مشکلات کی وجہ سے کسی کو ملازمت سے ہاتھ نہ دھونا پڑے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب نیٹ ورک کی جانب سے بجٹ میں کمی اور اخراجات کو پورا کرنے کے لیے عملے کی برطرفی پر غور کیا جا رہا تھا۔ جے لینو نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے خود قربانی دینے کا فیصلہ کیا اور اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ چھوڑنے پر رضامند ہوگئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنی بڑی مالی قربانی دینے کے باوجود جے لینو کی ذاتی زندگی یا مالی حالت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔ وہ اس دوران اپنے ملک بھر میں ہونے والے اسٹینڈ اپ کومیڈی شوز سے اتنی آمدنی حاصل کر رہے تھے کہ انہوں نے باقاعدہ تنخواہ کے چیکس کو ہاتھ تک نہیں لگایا اور ان پیسوں کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ ان کے اس اقدام کو شوبز انڈسٹری اور میڈیا کی دنیا میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا، جہاں عام طور پر بڑے ستارے صرف اپنے مالی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ جے لینو کی اس رحم دلی اور پروفیشنل ازم نے نہ صرف ان کے ساتھیوں اور عملے کا دل جیت لیا بلکہ ناظرین اور مداحوں کے سامنے ان کا قد مزید اونچا کر دیا۔ آج بھی ان کے اس اقدام کو ٹیلی ویژن کی تاریخ کی بہترین مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں ایک بڑے فنکار نے اپنے عملے کی خاطر مالی نقصان اٹھانا قبول کیا۔