LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کی کارکردگی اور درستگی کا نیا تجزیہ

News Image
نئے اے آئی ماڈلز جیسے کلاڈ اوپس 4.6 کے حوالے سے یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ وہ طویل عرصے تک کام کر سکتے ہیں۔ تاہم مسلسل درستگی اور بھروسے کا وقت اس طویل دورانیے کے مقابلے میں کافی کم ہوتا ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا میں روز بروز نئے اور حیرت انگیز ماڈلز متعارف کروائے جا رہے ہیں، جو مختلف نوعیت کے پیچیدہ کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حالیہ جائزوں کے مطابق، جدید ترین اے آئی سسٹمز کی ورکنگ کیپیسٹی کے حوالے سے اہم حقائق سامنے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر کلاڈ اوپس 4.6 (Claude Opus 4.6) جیسے جدید ماڈلز مسلسل بارہ گھنٹے تک کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم، جب اس کام کی درستگی اور اچھے نتائج کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ماڈل لگاتار صرف ستر منٹ تک مکمل طور پر قابلِ اعتماد کارکردگی فراہم کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طویل دورانیے کے کام کے دوران اے آئی کی توجہ یا درستگی کا معیار متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مائتھوس اور فیبل 5 جیسے دیگر ماڈلز کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ پچاس فیصد درستگی کے ساتھ سولہ گھنٹے تک کام جاری رکھ سکتے ہیں، جبکہ اسی فیصد درستگی کے حصول کے لیے ان کا مؤثر وقت دو سے تین گھنٹے تک محدود ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام اعداد و شمار دراصل ایک ہی ماڈل کی مختلف حالتوں اور کارکردگی کے پیمانوں کو ظاہر کرتے ہیں، جنہیں مختلف نوعیت کے کاموں کے دوران جانچا گیا ہے۔ اس تحقیق سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت کے سسٹمز طویل گھنٹوں تک کام کرنے کی سکت رکھتے ہیں، لیکن انتہائی اہم اور حساس نوعیت کے کاموں کے لیے انسانوں کو اب بھی مختصر وقت کے قابلِ اعتماد نتائج پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین ان اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے اے آئی سسٹمز کی بہتری پر کام کر رہے ہیں تاکہ آنے والے وقت میں طویل دورانیے کے دوران بھی درستگی کے معیار کو بلند رکھا جا سکے، جس سے کاروباری اور سائنسی شعبوں میں اس کا استعمال مزید مؤثر ثابت ہو سکے۔