Business
پاکستان ریفائنری اپ گریڈ پالیسی اور توانائی کے بحران کا جائزہ
پاکستان کی جانب سے ریفائنری اپ گریڈ پالیسی پر زور ایسے وقت میں دیا جا رہا ہے جب عالمی سطح پر اس رجحان سے گریز کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے تیل کے ذخائر اور سپلائی چین کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔
اسلام آباد: پاکستان کی جانب سے آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی معاشی منڈیوں میں روایتی ریفائننگ سے بتدریج گریز کیا جا رہا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق، یہ ایک ایسا دائو ہے جسے دنیا پہلے ہی سمیٹ رہی ہے، تاہم پاکستان کو اپنی توانائی کی فوری اور اندرونی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس شعبے میں اہم اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ اسی تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) میں بڑے پیمانے پر اصلاحات اور اوور ہالنگ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ملک میں فیول کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت جیسے رجحانات کا مؤثر سدباب کیا جا سکے اور عام صارفین کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
دوسری جانب، وزیراعظم شہباز شریف آج ملک کی نئی ریفائنری پالیسی کے مستقبل کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اجلاس کی صدارت کرنے جا رہے ہیں، جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی آراء کو حتمی شکل دی جائے گی۔ ایکسپریس ٹریبیون اور ڈان سمیت مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ ریفائنریز مقامی سطح پر صاف اور معیاری ایندھن کی پیداوار میں اضافہ کریں تاکہ درآمدی بل پر دباؤ کم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ملک کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر میں توسیع کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ ہنگامی حالات یا کسی بھی بیرونی بحران سے نمٹنے کے لیے ملکی توانائی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
عرب نیوز اور جیو نیوز کی رپورٹس کے مطابق پاکستان نے ایران کے ارد گرد جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث ممکنہ سپلائی چین کی رکاوٹوں کے پیش نظر ایندھن کی ترسیل کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ پر زور دینا شروع کر دیا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ سپلائی چین کے تمام مراحل کو شفاف بنانے اور ڈیجیٹل نظام کے تحت لانے سے نہ صرف بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ ہوگا بلکہ تیل کی تقسیم کے نظام میں کرپشن کی گنجائش بھی ختم ہو جائے گی۔ عالمی منڈی کے رجحانات اور ملکی معاشی چیلنجز کے درمیان توازن قائم کرنا موجودہ حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان ہے، جس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ریفائنری پالیسی کے نفاذ سے واضح ہوگا۔