LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کی ایران پالیسی اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کا تجزیہ

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تنازعہ خطے میں قابو سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں اور اتحادیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس صورتحال سے امریکہ کو ایک بڑی اسٹریٹجک شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سطح پر شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اور تھنک ٹینکس کی رپورٹس کے مطابق، امریکہ ایک ایسے تصادم کے جال میں پھنستا جا رہا ہے جہاں سے نکلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور سے شروع ہونے والی کشیدگی اب ایک ایسے نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں خطے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں اور یہ سارا معاملہ تیزی سے قابو سے باہر ہو رہا ہے۔ مختلف تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں امریکہ کو نہ صرف سفارتی بلکہ عسکری سطح پر بھی گہرے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکہ کے قریبی اتحادی بھی اس بات سے سخت پریشان ہیں کہ تہران کے خلاف اپنایا جانے والا سخت گیر مؤقف اور جنگی جنون خطے میں کسی بڑے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ دی گارڈین اور نیویارک ٹائمز سمیت کئی مؤقر بین الاقوامی اداروں نے اپنی رپورٹس میں خبردار کیا ہے کہ ایرانی پالیسی کے نام پر جو کھیل کھیلا جا رہا ہے، اس کا انجام امریکہ کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اتحادی ممالک کا ماننا ہے کہ اس حکمت عملی میں دور اندیشی کی کمی ہے اور اس کا مقصد صرف عارضی سیاسی فائدے حاصل کرنا ہے، جو کہ طویل مدت میں ملکی اور علاقائی مفادات کے خلاف جاتا ہے۔ اس سارے منظر نامے میں 'دی آرٹ آف دی ڈیل' کے روایتی انداز کو ایران کے معاملے پر لاگو کرنے کے نتائج تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جیسے پیچیدہ ملک کے ساتھ سفارت کاری کی بجائے دھونس اور دبائو کی پالیسی پر عمل کرنے سے تہران مزید سخت موقف اختیار کرنے پر مجبور ہوگا۔ نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ تہران کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات الٹا امریکہ کے لیے ایک اسٹریٹجک شکست کا پیش خیمہ بنتے دکھائی دے رہے ہیں، جس سے دنیا بھر میں امریکی اثر و رسوخ کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔