Business
ایران جنگ میں وقفے کے باعث تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران لڑائی میں عارضی وقفے اور سفارتی کوششوں کی خبروں کے بعد بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد مارکیٹ میں مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اس وقت شدید گراوٹ دیکھنے میں آئی جب سرمایہ کاروں نے ایران تنازعے کے حوالے سے لڑائی میں عارضی وقفے اور نئی سفارتی پیش رفت کا جائزہ لینا شروع کیا۔ مختلف عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ دنوں میں جغرافیائی سیاسی صورتحال میں اتار چڑھاو کے باعث توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی کی کیفیت طاری رہی ہے، تاہم تازہ ترین اطلاعات کے بعد قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوران خام تیل کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا کیونکہ منڈی کے شرکاء خطے میں ہونے والی ہر نئی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس سے قبل تنازعے کے دوران خدشات کے باعث تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں، تاہم حالیہ عارضی امن اور مذاکرات کی کوششوں نے منڈی کے دباؤ کو کچھ کم کیا ہے۔ اس کے باوجود یورپی صارفین اب بھی مہنگے ایندھن کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ ریفائنری اور دیگر اخراجات کی وجہ سے عام پمپوں پر قیمتیں نسبتاً اونچی سطح پر برقرار ہیں۔ تاجر اور سرمایہ کار اس وقت اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا یہ امن کا وقفہ پائیدار ہوگا یا پھر مارکیٹ میں دوبارہ سے تناؤ کی لہر دوڑ جائے گی۔
دوسری جانب اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی معیشت پر تیل کی قیمتوں کے اثرات براہ راست مرتب ہوتے ہیں۔ اگر موجودہ مندی کا رجحان برقرار رہتا ہے تو اس سے مہنگائی کی شرح میں کمی اور کاروباری سرگرمیوں کو سہارا ملنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ تاہم توانائی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سیاست انتہائی حساس ہے اور کوئی بھی ناگہانی واقعہ یا پالیسی بیان قیمتوں کو دوبارہ اوپر کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں اس وقت انتہائی محتاط فضا پائی جاتی ہے اور تمام فریقین آئندہ کے لائحہ عمل کا انتظار کر رہے ہیں۔