LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان آٹو پالیسی اور الیکٹرک وہیکل پالیسی کا جائزہ

News Image
پاکستان کی آٹو انڈسٹری اور حکومتی پالیسیوں میں بڑی تبدیلیاں سامنے آ رہی ہیں جہاں مبینہ طور پر کار ساز اداروں کے دباؤ پر ای وی پالیسی کو ختم کر دیا گیا ہے۔ ملک میں فی ایک ہزار افراد پر کاروں کی ملکیت صرف گیارہ رہ گئی ہے جبکہ صنعت کی جانب سے طویل المدتی روڈ میپ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے آٹو موبائل سیکٹر میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے کیونکہ ملک کی نئی آٹو پالیسی پر از سر نو غور کیا جا رہا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، کار ساز اداروں کی طرف سے شدید دباؤ کے بعد حکومت کو الیکٹرک وہیکل (ای وی) پالیسی کے حوالے سے اپنے اقدامات میں تبدیلی کرنا پڑی ہے اور اسے مبینہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اس صورتحال نے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کے فروغ کے حوالے سے اٹھنے والے اقدامات کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور ماہرین نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کاروں کی ملکیت کی شرح تشویشناک حد تک کم ہو کر صرف 11 گاڑی فی 1 ہزار رہائشیوں تک محدود ہو گئی ہے۔ یہ شرح خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے، جو ملک میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، ٹیکسوں کے بھاری بوجھ اور عام آدمی کی گھٹتی ہوئی خرید و فروخت کی سکت کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی تناظر میں آٹو انڈسٹری کے بڑے کھلاڑیوں اور نمائندوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایک جامع اور پائیدار 10 سالہ پالیسی روڈ میپ تیار کرے تاکہ انڈسٹری کو استحکام مل سکے۔ دوسری جانب، بڑھتے ہوئے ایندھن کے نرخوں اور عالمی مارکیٹ میں تبدیلیوں کی وجہ سے مقامی آٹو مارکیٹ میں گاڑیوں کی خرید و فروخت کا رجحان بھی تیزی سے بدل رہا ہے۔ کراچی بندرگاہ پر درآمدی الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے بھی مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، جبکہ صارفین اور صنعت کار دونوں ہی حکومت سے ایک واضح اور متوازن پالیسی کی توقع کر رہے ہیں۔ صنعت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے تمام فریقین کو اعتماد میں لے کر دیرپا اقدامات نہ کیے تو ملک کی آٹو انڈسٹری مزید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ حکومت کے سامنے اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ روایتی گاڑیوں کے ساز اداروں کے مطالبات کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کے رجحان کو بھی فروغ دے۔ آنے والے دنوں میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ وزارتِ صنعت و پیداوار آٹو سیکٹر کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایک نئی حکمت عملی طے کرے گی، جس سے پاکستانی آٹو مارکیٹ کا مستقبل وابستہ ہے۔