LIVE
Loading Breaking News...

سوڈان کے علاقے دارفور میں ڈرون حملہ، 35 افراد جاں بحق

News Image
سوڈانی فوج کے دارفور میں ہونے والے ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم 35 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ یہ ہلاکتیں ملک میں فوج اور نیم فوجی دستوں کے درمیان جاری شدید خانہ جنگی کا حصہ ہیں۔
سوڈان میں فوج اور نیم فوجی دستوں کے درمیان جاری تباہ کن خانہ جنگی کے دوران ایک تازہ ترین پرتشدد واقعے میں دارفور کے علاقے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے ایک سرکردہ گروپ کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات کے مطابق، سوڈانی فوج کی طرف سے کیے جانے والے ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم 35 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس حملے نے خطے میں پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے جہاں عام شہریوں کو دونوں متحارب فریقین کے درمیان جاری اس خونریز لڑائی کی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔ واضح رہے کہ سوڈان میں یہ تباہ کن جنگ فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے کمانڈر محمد حمدان دقلو کے درمیان اقتدار پر قبضے کے تنازع کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اس طویل اور بے رحم جنگ کے نتیجے میں اب تک دسیوں ہزار افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جبکہ لاکھوں کی تعداد میں شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور اسپتالوں، اسکولوں اور رہائشی علاقوں کو بھی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے سوڈان کے دونوں فریقوں کی جانب سے انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دارفور کا علاقہ، جو تاریخ میں بھی نسلی اور سیاسی تشدد کا شکار رہا ہے، اس تازہ ترین جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطوں میں سرفہرست ہے۔ مقامی آبادی شدید غذائی قلت، طبی سہولیات کی فقدان اور روزمرہ کی زندگی کے بنیادی مسائل سے دوچار ہے کیونکہ امدادی کارروائیاں بھی سکیورٹی خدشات اور لڑائی کی وجہ سے شدید تعطل کا شکار ہیں۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ نے سوڈان کے متحارب رہنماؤں سے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ملک کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے اور متاثرہ علاقوں تک فوری انسانی امداد پہنچائی جا سکے۔ تاہم، اب تک فریقین کے درمیان امن مذاکرات کے حوالے سے کوئی خاص پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے، جس کی وجہ سے سوڈانی عوام کو درپیش مشکلات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور پورا خطہ ایک بڑے انسانی المیے کی زد میں ہے۔