World
عالمی جنگیں اور انسانی بحران: دنیا ایک اہم موڑ پر
موجودہ دور میں مشرق وسطیٰ، یوکرین، سوڈان اور میانمار سمیت دنیا بھر کے 103 ممالک مختلف تنازعات کا شکار ہیں۔ عالمی برادری کو اس وقت تاریخ کے ایک انتہائی نازک موڑ اور سنگین انسانی چیلنجز کا سامنا ہے۔
دنیا کا مستقبل اس وقت ایک انتہائی نازک اور فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکا ہے۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر کے 103 ممالک اس وقت کسی نہ کسی شکل میں جنگوں اور مسلح تنازعات کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ سے لے کر یوکرین، سوڈان، میانمار، یمن اور کانگو تک، کرہ ارض کا بڑا حصہ جنگ کی آگ میں جل رہا ہے اور لاکھوں معصوم انسان اس کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ان تمام تنازعات نے نہ صرف علاقائی امن کو تباہ کر دیا ہے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور استحکام کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان جنگوں کی وجہ سے عالمی سطح پر عدم اعتماد کی فضا پیدا ہو گئی ہے، اور سرد جنگ کے بعد پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں ریاستیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر محاذ آرائی میں ملوث ہیں۔ یوکرین میں جاری تنازع نے یورپ کی سلامتی کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی روز بروز خطرناک صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ دوسری طرف سوڈان اور میانمار جیسے ممالک میں داخلی جنگ نے انسانی المیے کو جنم دیا ہے جہاں خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
اس صورتحال نے بین الاقوامی اداروں اور امن کی کوششوں کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے ان تنازعات کو روکنے یا ان کے پائیدار حل تلاش کرنے میں تاحال مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، سیاسی مفادات اور طاقت کی ہوس نے دنیا کو ایک ایسی نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک چھوٹی سی چنگاری بھی بڑی عالمی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔
عالمی رہنماؤں اور مبصرین کا پرزور مطالبہ ہے کہ جنگ کے راستے کو ترک کر کے سفارت کاری اور بات چیت کو ترجیح دی جائے۔ اگر فوری طور پر سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو اس سے بھی زیادہ تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عالمی امن کے قیام کے لیے تمام ممالک کو مل کر مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا تاکہ اس کرہ ارض کو مزید بربادی سے بچایا جا سکے اور انسانیت کو ایک محفوظ مستقبل دیا جا سکے۔