LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اور یوکرین: پیٹریاٹ میزائل لائسنس کے حوالے سے ٹرمپ کا بیان

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ نے یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل سسٹم تیار کرنے کے لائسنس دینے پر کوئی اتفاق نہیں کیا۔ یہ جدید فوجی ٹیکنالوجی روس کے خلاف جنگ میں کییف کی اولین ترجیحات میں شامل تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ امریکہ نے یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کی تیاری کے لیے لائسنس دینے پر کوئی باضابطہ اتفاق نہیں کیا ہے۔ یہ بیان کییف حکومت کے لیے ایک بڑا دھماکہ خیز نکتہ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یوکرین طویل عرصے سے اس جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی کو اپنے ملک میں تیار کرنے کا خواہاں تھا۔ روسی جارحیت کے خلاف جاری جنگ میں یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا کییف کی اولین ترجیحات میں شامل رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، پیٹریاٹ میزائل سسٹم دنیا کے جدید ترین فضائی دفاعی سسٹمز میں شمار ہوتے ہیں جو دشمن کے میزائلوں اور جنگی طیاروں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اشارہ دیا کہ اس نوعیت کی حساس اور پیچیدہ عسکری ٹیکنالوجی کی منتقلی یا مقامی سطح پر پیداوار ایک انتہائی مشکل مرحلہ ہے۔ ان کے اس بیان کو یوکرین کے لیے امریکی فوجی امداد اور دفاعی تعاون سے متعلق پالیسی میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، یوکرین کے حکام اور مغربی دفاعی تجزیہ کار اس فیصلے کے طویل مدتی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ کییف کی کوشش تھی کہ جنگ کے اس طویل اور کٹھن مرحلے پر امریکہ سے براہ راست پیداواری لائسنس حاصل کر کے ملکی دفاع کو خود کفیل بنایا جائے۔ تاہم واشنگٹن کی جانب سے اس بظاہر پسپائی نے یوکرینی حکام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ روس کے ساتھ جاری کشیدگی میں اس قسم کے جدید دفاعی سسٹمز کی اہمیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔