LIVE
Loading Breaking News...

نائیجیریا کی معیشت، وسائل کی تقسیم اور غربت کا سچ

News Image
ماہرین کے مطابق نائیجیریا ایک غریب ملک نہیں ہے بلکہ اس کے مالیاتی وسائل کی غلط تقسیم ملکی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اس نوعیت کی عدم مساوات نے غریب کے ساتھ ساتھ امیر طبقے کے لیے بھی اقتصادی ترقی کو سست کر دیا ہے۔
صیموئل کالکرک کے تجزیے کے مطابق نائیجیریا کوئی غریب ملک نہیں ہے جیسا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے۔ ملک کی مجموعی اقتصادی صلاحیت اور 2.4 ٹریلین ڈالر کی بڑی معیشت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نائیجیریا قدرتی اور مالیاتی وسائل سے مالامال ہے۔ اصل مسئلہ ملک کے وسائل کی انتہائی ناقص اور غیر منصفانہ تقسیم ہے، جس کی وجہ سے قومی پیداوار اور اجتماعی ترقی کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اقتصادی اصطلاحات میں اسے 'پاریٹو نااہلی' کہا جاتا ہے، جہاں وسائل کا بہاؤ اس طرح نہیں ہوتا کہ معاشرے کے تمام طبقات کو اس کا متوازن فائدہ پہنچ سکے۔ وسائل کی اس غلط تخصیص کا اثر صرف غریب طبقے پر ہی نہیں پڑتا بلکہ طویل مدت میں یہ امیر طبقے اور مجموعی طور پر ملک کی صنعتی و کاروباری ترقی کو بھی سست کر دیتا ہے۔ جب معاشی مواقع مخصوص ہاتھوں میں محدود ہو جائیں یا پیداواری شعبے نظر انداز ہوں تو پوری قوم کی صلاحیتیں محدود ہو جاتی ہیں۔ اس تفریق کو سمجھنا اس لیے بھی انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس سے بحث کا رخ بدل جاتا ہے۔ ہمیں یہ دیکھنے کے بجائے کہ وسائل کی کمی کیسے پوری کی جائے، اصل توجہ اس بات پر مرکوز کرنی چاہیے کہ موجودہ اور وافر وسائل کو زیادہ منصفانہ اور مؤثر انداز میں کیسے تقسیم کیا جائے۔ اگر نائیجیریا اپنے موجودہ نظامِ تقسیم کو بہتر بنا لے اور اقتصادی پالیسیوں میں اصلاحات لائے، تو ملک نہ صرف اندرونی غربت پر قابو پا سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک بڑی اقتصادی طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔