Health
لوٹیل اگلیز کیا ہیں اور خواتین پر اس کے اثرات
سوشل میڈیا پر خواتین کی بڑی تعداد اب ماہواری کے چکر کے اس خاص مرحلے پر खुलकर بات کر رہی ہے جسے لوٹیل فیز کہا جاتا ہے۔ ماہرینِ صحت اس کے اثرات اور خواتین کی جسمانی و جذباتی صحت پر پڑنے والے نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں۔
سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر آج کل خواتین میں ماہواری کے چکر کے ایک خاص مرحلے کے حوالے سے بحث میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس مرحلے کو 'لوٹیل فیز' کہا جاتا ہے جبکہ اس دوران پیش آنے والی ظاہری اور اندرونی تبدیلیوں کو غیر رسمی طور پر 'لوٹیل اگلیز' کا نام دیا گیا ہے۔ انٹرنیٹ پر ہزاروں خواتین اس بات کا اظہار کر رہی ہیں کہ کس طرح یہ مخصوص ایام ان کے مزاج، جلد کی صحت اور مجموعی توانائی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ماہواری کے اس مرحلے کے دوران ہارمونز کی سطح میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ بیضہ دانی سے انڈے کے اخراج کے بعد اور اگلی ماہواری شروع ہونے سے پہلے کے اس وقت میں پروجیسٹرون اور ایسٹروجن کی مقدار اوپر نیچے ہوتی ہے۔ یہی ہارمونک اتار چڑھاؤ جسمانی اور ذہنی سطح پر مختلف علامات کی وجہ بنتا ہے، جنہیں عام بول چال میں خواتین نے لوٹیل اگلیز کا نام دیا ہے۔ ان علامات میں جلد کا مرجھانا، چہرے پر سوجن یا پھنسیاں نکلنا، اور جسمانی وزن میں عارضی اضافہ شامل ہو سکتا ہے۔جسمانی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ اس مرحلے میں ذہنی اور جذباتی دباؤ میں بھی اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ اکثر خواتین شدید تھکن، چڑچڑاپن، بے چینی اور موڈ سوئنگز کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اگرچہ یہ تمام علامات قدرتی ہیں اور ہر خاتون کے جسم کا ردعمل مختلف ہو سکتا ہے، لیکن سوشل میڈیا پر اس موضوع پر کھلے عام بات چیت نے اس مسئلے کو عام فہم بنا دیا ہے۔ ماہرینِ صحت کا ماننا ہے کہ اس حوالے سے آگاہی بڑھنے سے خواتین کو اپنے جسم کو بہتر طریقے سے سمجھنے اور ان دنوں میں اپنی زیادہ دیکھ بھال کرنے میں مدد مل رہی ہے۔