LIVE
Loading Breaking News...

بھارت امتحان پرچہ لیک: طلباء کی خودکشیاں اور متاثرہ خاندانوں کا درد

News Image
بھارت میں میڈیکل کے داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد پیدا ہونے والے تنازع نے نوجوان طلباء کی زندگیاں متاثر کیں ہیں۔ اس واقعے سے جڑے دو غم زدہ خاندانوں نے اپنے بچوں کے المناک نقصانات اور ان پر گزرنے والی قیامت کا انکشاف کیا ہے۔
بھارت میں تعلیمی نظام کے اندر موجود خرابیوں اور بدعنوانی نے ایک بار پھر کئی نوجوان گھرانوں کو ہمیشہ کے لیے غم میں ڈبو دیا ہے۔ میڈیکل کے داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کا جو اسکینڈل سامنے آیا، اس نے محض تعلیمی مستقبل ہی تباہ نہیں کیا بلکہ کئی ہونہار طلباء کی قیمتی جانیں بھی نگل لیں۔ اس اسکینڈل کے بعد سامنے آنے والی کہانیاں دل دہلا دینے والی ہیں، جہاں دو مختلف خاندانوں نے اپنے بچوں کی المناک اموات اور اس پورے عمل میں ہونے والی ناانصافیوں پر کھل کر بات کی ہے۔ متاثرہ والدین کا سوال ہے کہ آخر ان کے بچوں کا کیا قصور تھا جنہوں نے دن رات محنت کر کے تیاری کی تھی لیکن کرپشن اور پیپر لیک مافیا کی وجہ سے وہ اپنے خوابوں کا گلا گھٹنے پر مجبور ہو گئے۔ امتحان کے پرچے کے وقت سے پہلے افشا ہونے کی خبر نے پورے ملک میں طوفان برپا کر دیا تھا، لیکن اس خبر کے پیچھے جو انسانی سانحات چھپے ہیں، ان کا اندازہ لگانا عام لوگوں کے لیے مشکل ہے۔ نوجوان طلباء نے برسوں تک سخت محنت کی، مہنگے کوچنگ اداروں میں دن رات ایک کیے اور والدین نے اپنی جمع پونجی بچوں کی تعلیم پر لگا دی۔ لیکن جب یہ معلوم ہوا کہ چند پیسوں کے عوض پرچے پہلے ہی فروخت ہو چکے ہیں اور میرٹ کا قتل عام کیا جا رہا ہے، تو بہت سے حساس نوجوان یہ صدمہ برداشت نہ کر سکے۔ امتحان کے نتائج اور کرپشن کے اس نظام سے دل برداشتہ ہو کر ان ہونہار طلباء نے انتہائی قدم اٹھا لیا، جس سے ان کے گھرانوں میں ماتم برپا ہو گیا۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ نظام کی اس ناکامی اور بدعنوانی نے ان کے گھر کے چراغ بجھا دیے ہیں۔ والدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مجرموں کو کٹھہرے میں لانے کے وعدے تو کیے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر متاثرہ خاندانوں کو انصاف کے حصول کے لیے طویل اور کٹھن جنگ لڑنا پڑتی ہے۔ اس واقعے نے پورے ملک میں طلباء کے ذہنی دباؤ اور مسابقتی امتحانات کے طریقہ کار پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی نہیں بنایا گیا اور اس طرح کی دھاندلیوں پر سختی سے قابو نہیں پایا گیا، تو مزید معصوم زندگیاں اس نظام کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی۔