Health
یونیورسٹی طلباء کے لیے این ایچ ایس میننجائٹس بی ویکسین کی تفصیلات
انگلینڈ میں یونیورسٹی شروع کرنے والے نئے طلباء کو میننجائٹس بی کی مفت ویکسین لگوانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ قدم کینٹ میں ہونے والی حالیہ بڑی اور تیز ترین میننجائٹس بی کی وباء کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
انگلینڈ میں نئی یونیورسٹی اکیڈمک سیزن کا آغاز کرنے والے طلباء کو صحت عامہ کے حکام نے میننجائٹس بی سے بچاؤ کے لیے مفت ویکسین لگوانے کی پرزور اپیل کی ہے۔ یہ طبی انتباہ اور اقدامات رواں سال کے اوائل میں کینٹ (Kent) میں رونما ہونے والی یو کے کی تاریخ کی سب سے بڑی اور تیز ترین میننجائٹس بی کی وباء کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے ہاسٹلز میں رہنے والے نوجوان اس انفیکشن کا شکار ہونے کے سب سے زیادہ خطرے کی زد میں ہوتے ہیں کیونکہ وہ ایک قریبی اور مشترکہ ماحول میں رہتے ہیں۔
ماہرینِ صحت کے مطابق میننجائٹس بی ایک انتہائی خطرناک اور جان لیوا بیماری ہے جو بیکٹیریا کے ذریعے پھیلتی ہے۔ اس بیماری کی علامات میں اچانک تیز بخار، سر درد، گردن کا اکڑنا، روشنی سے چڑ اور جسم پر دھبے ظاہر ہونا شامل ہیں۔ بیماری اتنی تیزی سے پھیل سکتی ہے کہ مریض کی حالت چند گھنٹوں میں انتہائی نازک ہو سکتی ہے۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) نے تمام نئے آنے والے یونیورسٹی طلباء کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کلاسز شروع ہونے سے پہلے یا کیمپس پہنچتے ہی اپنے جنرل پریکٹیشنر (GP) کے پاس جائیں اور میننجائٹس بی کی ویکسین لازمی لگوائیں۔
محکمہ صحت نے واضح کیا ہے کہ یہ ویکسین طلباء کو اس موذی مرض کے خلاف طویل مدتی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ یونیورسٹی کے ماحول میں مختلف علاقوں اور ممالک سے طلباء آتے ہیں جس کی وجہ سے انفیکشنز کے پھیلنے کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔ اس لیے حفاظتی ٹیکہ لگوانا نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی صحت کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ اور این ایچ ایس نے طلباء اور ان کے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اس طبی سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنے رجسٹریشن کے عمل کے دوران ہی ویکسینیشن کو ترجیح دیں۔