World
ٹرمپ کا اعلان: امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات پیر سے شروع ہوں گے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی اتحادیوں اور تہران کی درخواست پر ایران کے ساتھ مذاکرات کا نیا سلسلہ پیر کے روز شروع ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ فریقین کی جانب سے متوقع فضائی حملوں میں تاخیر کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔
امریکی صدر نے ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ خلیجی خطے کے اتحادیوں اور تہران حکومت کی جانب سے اصرار کیا گیا تھا کہ طے شدہ حملوں کو فی الوقت موخر کیا جائے۔ اس صورتحال کے بعد امریکہ اور ایران کے مابین سفارتی سطح پر رابطے بحال ہوئے ہیں اور مذاکرات کا ایک نیا دور آنے والے پیر کے روز شروع ہونے جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر تھی اور کسی بھی وقت فوجی کارروائی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ تاہم، علاقائی رہنماؤں کی جانب سے سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے کی اپیل کے بعد کشیدگی میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے اور بات چیت کے دروازے دوبارہ کھل گئے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے حامی ہیں، لیکن تہران کو اپنے رویے میں سنجیدہ تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ آنے والے ہفتے میں ہونے والے یہ مذاکرات اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے یا تنازعہ مزید سنگین رخ اختیار کرے گا۔
عالمی سطح پر اس اعلان کو نہایت غور سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے مشرق وسطیٰ کے نازک حالات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پیر کے روز شروع ہونے والے یہ مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو اس سے خطے میں ایک بڑی جنگ کا خطرہ ٹل سکتا ہے، بصورت دیگر صورتحال مزید ابتر ہونے کا اندیشہ ہے۔