Politics
برازیل: صدر لولا دا سلوا کی چوتھی مدت کے لیے انتخابی مہم شروع
برازیل کے صدر لوئس انناس لولا دا سلوا نے اپنی چوتھی صدارتی مدت کے لیے باضابطہ طور پر انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ملک کی خود مختاری اور غیر ملکی مفادات کے سامنے سر نہ جھکانے پر خصوصی زور دیا ہے۔
برازیل کے صدر لوئس انناس لولا دا سلوا نے ملک کی صدارت کے لیے اپنی چوتھی مدت کے حصول کی خاطر باضابطہ طور پر انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اپنے اس نئے سیاسی سفر کے دوران لولا دا سلوا نے بنیادی طور پر قومی خودمختاری اور ملک کے وقار کو بلند رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ان کی اس انتخابی حکمت عملی کا مقصد برازیل کے سیاسی منظرنامے پر اپنے مخالفین کو پسپا کرنا اور عوام کو ایک مضبوط اور خودکفشل قوم کا نظارہ دینا ہے۔
انتخابی مہم کے آغاز پر اپنے خطاب میں صدر لولا نے سابق صدر بولسونارو کے خاندان کے غیر ملکی بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مبینہ گہرے روابط کو ہدف تنقید بنایا۔ انہوں نے اس صورتحال کو برازیل کی خودمختاری کے خلاف ایک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے سیاسی فیصلوں میں کسی بھی بیرونی طاقت کی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے انتخابات دراصل بیرونی مفادات کے سامنے سر تسلیم خم کرنے یا ملک کی آزادی برقرار رکھنے کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، لولا دا سلوا کی یہ حکمت عملی انتہائی نپی تلی ہے جس کا مقصد ووٹرز کے دلوں میں حب الوطنی کے جذبات کو ابھارنا ہے۔ بولسونارو خاندان اور امریکی قیادت کے درمیان تعلقات کو موضوع بحث بنا کر لولا اپنے حریفوں کو دفاعی پوزیشن پر دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ برازیل میں اس نئے سیاسی موڑ نے ملکی سیاست کو گرما دیا ہے اور عامتہ الناس کی توجہ ان انتخابات پر مرکوز ہو گئی ہے۔
آنے والے ہفتوں میں اس انتخابی مہم کے مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے کیونکہ دونوں فریقین ملک کے معاشی اور سیاسی مستقبل کے حوالے سے اپنے اپنے بیانیے کو عوام تک پہنچا رہے ہیں۔ صدر لولا کی جانب سے قومی خود مختاری کو سب سے اوپر رکھنے کا عزم ان کے حامیوں میں جوش و خروش پیدا کر رہا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں بھی اس کا بھرپور جواب دینے کی تیاری کر رہی ہیں۔ برازیل کے عوام اب یہ فیصلہ کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں کہ وہ آئندہ آنے والے سالوں میں اپنے ملک کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔