LIVE
Loading Breaking News...

چوہوں کی ذہانت: انسانوں اور چوہوں کے موازنے پر مبنی خصوصی رپورٹ

News Image
سائنسی مشاہدات سے پتہ چلتا ہے کہ چوہے انسانوں جتنی ذہانت کے حامل تو نہیں ہوتے لیکن مخصوص شعبوں میں حیرت انگیز صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ یہ جاندار مسائل کو حل کرنے، نئے ماحول میں ڈھلنے اور سماجی ذہانت کے معاملات میں منفرد مہارت کے حامل ہیں۔
حیاتیات اور حوانوں کے رویوں پر تحقیق کرنے والے ماہرین طویل عرصے سے اس بات کا مطالعہ کر رہے ہیں کہ مختلف جانداروں میں ذہانت کا معیار کیا ہے۔ اس حوالے سے جب چوہوں کا موازنہ انسانوں سے کیا جاتا ہے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اگرچہ چوہے انسانوں کی طرح اعلیٰ درجے کی استدلال اور فکری صلاحیتوں کے حامل نہیں ہوتے، تاہم وہ مخصوص شعبوں میں غیر معمولی ذہانت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ چھوٹے اور بظاہر عام لگنے والے جاندار حیرت انگیز طور پر چالاک ہوتے ہیں اور مختلف صورتحال میں اپنی بقا کے لیے منفرد طریقے اپناتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ چوہوں میں مسائل کو حل کرنے (problem-solving) کی زبردست صلاحیت پائی جاتی ہے۔ لیبارٹری کے تجربات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ جب چوہوں کو پیچیدہ بھول بھلیوں (mazes) یا رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اپنی یادداشت اور مشاہدے کی بنیاد پر بہت جلد راستہ تلاش کر لیتے ہیں۔ ان کی یہ ادراکی صلاحیت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کو نہ صرف محسوس کرتے ہیں بلکہ ان کے مطابق فوری طور پر خود کو ڈھال بھی لیتے ہیں جسے سائنسی اصطلاح میں ایڈاپٹبلٹی (adaptability) کہا جاتا ہے۔ مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کے علاوہ چوہے پیچیدہ سماجی روابط بھی رکھتے ہیں۔ ان میں ایک دوسرے کے ساتھ مواصلات کا نظام اور ہمدردی یا تعاون کے عناصر بھی دیکھے گئے ہیں۔ وہ اپنے غول یا گروہ کے دیگر اراکین کے ساتھ مل کر رہتے ہیں اور خطرے کی صورت میں ایک دوسرے کو خبردار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس قسم کی سماجی ذہانت ظاہر کرتی ہے کہ یہ جاندار محض جبلت کے تحت نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے ساتھ اپنی روزمرہ کی زندگی گزارتے ہیں۔ اگرچہ انسانی ذہانت ٹیکنالوجی، زبان، فلسفہ اور سائنسی ترقی کے اعتبار سے بے مثال اور بہت بلند ہے، لیکن چوہوں کی یہ زمینی اور فطری ذہانت اس بات کا ثبوت ہے کہ قدرت نے ہر جاندار کو اس کی ضرورت کے مطابق صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ چوہوں پر ہونے والی یہ تحقیقات نہ صرف حوانوں کے رویے کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ انسانی نفسیات اور ادراکی ارتقاء کو جاننے کے لیے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔