Technology
بوئنگ کی تاریخ اور نیولے: طیاروں کی وائرنگ کی حیرت انگیز کہانی
ہوائی جہاز تیار کرنے والی معروف کمپنی بوئنگ کے بارے میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ انہوں نے ماضی میں اپنے طیاروں کی پیچیدہ وائرنگ کے لیے جانوروں یعنی نیولوں کا استعمال کیا تھا۔ یہ تاریخی حقیقت اگرچہ عجیب لگتی ہے لیکن یہ فضائی صنعت کے ارتقاء کا ایک دلچسپ باب ہے۔
فضائی سفر کی تاریخ بہت سی عجیب و غریب اور دلچسپ کہانیوں سے بھری پڑی ہے، جن میں سے ایک منفرد کہانی معروف ایرو اسپیس کمپنی بوئنگ سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ کیا بوئنگ نے واقعی اپنے طیاروں کی وائرنگ کے لیے نیولوں کا استعمال کیا تھا؟ اس سوال کا جواب حیرت انگیز طور پر ہاں میں ہے، اگرچہ یہ طریقہ کار ایک انتہائی مخصوص اور محدود تاریخی پس منظر میں اختیار کیا گیا تھا۔ جب انجینئرز کو ہوائی جہازوں کے اندرونی حصوں میں تنگ اور تاریک جگہوں سے تار گزارنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تو انہوں نے اس منفرد حل پر غور کیا۔
طیاروں کی تیاری کے دوران وائرنگ کا عمل انتہائی پیچیدہ اور صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے۔ ہوائی جہاز کے مختلف حصوں میں سینکڑوں میل طویل کیبلز اور تاروں کا جال بچھانا ہوتا ہے، جنہیں تنگ نالیوں اور فریمز کے آر پار پہنچانا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ تاریخ کے اس مخصوص دور میں، بوئنگ کے انجینئرز نے اس مسئلے کا ایک ایسا حل نکالا جو بظاہر ناممکن اور عجیب معلوم ہوتا تھا، لیکن اس نے حیرت انگیز طور پر مؤثر نتائج فراہم کیے۔ نیولے اپنے قدرتی رویے کی وجہ سے تنگ اور سرنگ نما جگہوں میں داخل ہونے کی طبعی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس تکنیک کے تحت، نیولوں کے ساتھ ہلکے وزن کے تار یا ڈور باندھی جاتی تھی اور انہیں پائپوں یا تنگ راستوں میں چھوڑ دیا جاتا تھا۔ وہ دوسری طرف سے نکلتے تھے تو اپنے ساتھ تار بھی کھینچ لاتے تھے، جس سے انجینئرز کا کام انتہائی آسان ہو جاتا تھا۔ اس طریقے نے اس وقت کی وائرنگ کی مشکلات کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ جدید دور میں اس قسم کے طریقوں کی اب کوئی ضرورت نہیں رہی اور جدید آٹومیشن اور ٹیکنالوجی نے تمام مراحل کو خودکار بنا دیا ہے، لیکن بوئنگ کی تاریخ کا یہ باب آج بھی ایوی ایشن کی دنیا میں ایک دلچسپ داستان کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔