LIVE
Loading Breaking News...

ٹروتھ سوشل کی نئی سروس: ڈونلڈ ٹرمپ کی پوسٹس تک تیز رسائی

News Image
ٹروتھ سوشل نے ایک نئی معاوضہ سروس شروع کی ہے جس کے ذریعے وال اسٹریٹ کی فرمز ڈونلڈ ٹرمپ کی مارکیٹ کو متاثر کرنے والی پوسٹس عام عوام سے پہلے دیکھ سکیں گی۔ اس اقدام کا مقصد مالیاتی اداروں کو بروقت معلومات فراہم کرنا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل نے ایک متنازعہ اور نئی کمرشل سروس کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے جس کے تحت مالیاتی اداروں اور وال اسٹریٹ کی فرمز کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اہم ترین سوشل میڈیا پوسٹس تک عام عوام کے مقابلے میں تیز رفتار رسائی فراہم کی جائے گی۔ یہ سروس ان اداروں کے لیے بنائی گئی ہے جو مارکیٹ کے رجحانات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ٹرمپ کے بیانات سے فوری طور پر فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ اس نئے فیچر کے فعال ہونے کے بعد، اب مالیاتی منڈیوں سے وابستہ افراد کو اس بات کی اجازت ہوگی کہ وہ بھاری فیس ادا کر کے ایسی اطلاعات تک سب سے پہلے رسائی حاصل کریں جو اسٹاک مارکیٹ یا کاروباری سرگرمیوں کو براہ راست متاثر کر سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کارپوریٹ سیکٹر اور عام صارفین کے درمیان اطلاعات کے حصول میں ایک بڑا فرق پیدا کر دے گا۔ ٹروتھ سوشل کے اس قدم کو معاشی اور تکنیکی حلقوں میں ملا جلا ردعمل ملا ہے۔ حامیوں کا ماننا ہے کہ یہ کاروباری اداروں کے لیے ایک بہترین مارکیٹ ٹول ہے جو انہیں جدید اور تیز رفتار دور میں بروقت فیصلے کرنے میں مدد دے گا، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے اطلاعات کی غیر منصفانہ تقسیم کو فروغ ملے گا اور عام سرمایہ کار اس دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات روایتی طور پر عالمی معیشت، شیئر مارکیٹوں اور مختلف صنعتوں میں بڑی ہلچل مچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور اسی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سروس کی قیمت بھی کافی زیادہ رکھی گئی ہے۔ وال اسٹریٹ کی بڑی فرمز پہلے ہی اس قسم کی تیز رفتار ڈیٹا سروسز کی تلاش میں رہتی ہیں تاکہ وہ تجارتی فوائد حاصل کر سکیں۔ اس سروس کے باضابطہ اجرا کے بعد سے ڈیجیٹل مارکیٹ اور فنانشل ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ضابطہ کار اور ماہرینِ قانون اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس طرح کی براہ راست اور معاوضے کی بنیاد پر دی جانے والی معلومات منڈی کے ضوابط پر پورا اترتی ہیں یا نہیں۔ ٹروتھ سوشل انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ سروس مارکیٹ کے اصولوں کے عین مطابق ہے اور اس سے پلیٹ فارم کی تجارتی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ وال اسٹریٹ کی کتنی فرمز اس سروس کو اپناتی ہیں اور اس کا اثر مجموعی امریکی معیشت اور اسٹاک ایکسچینج پر کیا پڑتا ہے۔