LIVE
Loading Breaking News...

نیٹ پیپر لیک اسکینڈل کا انجینئرنگ کے داخلوں پر اثر

News Image
میڈیکل کے داخلہ ٹیسٹ کے کاغذات لیک ہونے اور شیڈول میں تاخیر کی وجہ سے اب انجینئرنگ کے داخلے بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ میڈیکل کے امیدوار بیک اپ کے طور پر انجینئرنگ کی نشستیں حاصل کر رہے ہیں جس سے میرٹ اور نظام پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
میڈیکل کے داخلے کے امتحانات میں مبینہ پیپر لیک اسکینڈل اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تاخیر اب ملک بھر میں انجینئرنگ کالجوں کے داخلوں پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ صورتحال اتنی پیچیدہ ہو چکی ہے کہ میڈیکل کے بہت سے امیدوار، جو اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں، اب داخلہ کے طویل التواء سے بچنے کے لیے انجنیئرنگ کی نشستیں حاصل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس عمل کی وجہ سے انجینئرنگ کے روایتی امیدواروں کی حق تلفی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے اور میرٹ کے نظام میں بڑی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق، دونوں شعبوں کے داخلہ سائنکلز کے آپس میں ٹکرانے کی وجہ سے یہ بحران پیدا ہوا ہے۔ میڈیکل کے داخلہ عمل میں تاخیر کے باعث طلباء کوئی رسک نہیں لینا چاہتے اور وہ انجینئرنگ کے اداروں میں اپنی نشستیں محفوظ بنا رہے ہیں۔ اس غیر متوقع رجحان کے بعد انجینئرنگ کے تعلیمی اداروں کو مجبوراً اضافی داخلہ راؤنڈز کا انعقاد کرنا پڑ رہا ہے تاکہ اصل حق دار طلباء کو بھی موقع مل سکے۔ اس تمام صورتحال نے نہ صرف طلباء اور ان کے والدین کو شدید ذہنی کوفت میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ تعلیمی منتظمین کے لیے بھی ایک بڑا انتظامی چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت اور متعلقہ تعلیمی بورڈز کو فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ دونوں اہم شعبوں کے داخلہ کے عمل کو شفاف اور منصفانہ بنایا جا سکے اور کسی بھی طالب علم کا تعلیمی سال ضائع نہ ہو۔