LIVE
Loading Breaking News...

اوندو میں ڈاکٹروں کا ہیوی ورک لوڈ کے خلاف احتجاج، جাপা سنڈروم کا اثر

News Image
نائجیریا کی ریاست اوندو میں طبی عملے کی ہجرت یعنی 'جাপা' سنڈروم کی وجہ سے ہسپتالوں میں کام کا بوجھ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ طبی ماہرین کو روکا جا سکے اور صحت کی سہولیات بہتر کی جا سکیں۔
نائجیریا کی ریاست اوندو میں طبی شعبہ شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے کیونکہ ڈاکٹروں نے 'جাপা' سنڈروم یعنی طبی ماہرین کی بیرون ملک نقل مکانی کی وجہ سے کام کے شدید بوجھ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک چھوڑ کر جانے والے ڈاکٹروں کی بڑی تعداد نے مقامی ہسپتالوں میں عملے کی شدید قلت پیدا کر دی ہے، جس کا براہ راست اثر مریضوں کو ملنے والی طبی امداد پر پڑ رہا ہے۔ ریاست کے سرکاری ہسپتالوں اور طبی مراکز میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں کے مطابق، عملہ کم ہونے کی وجہ سے موجودہ ڈاکٹروں کو اپنی گنجائش سے کئی گنا زیادہ ڈیوٹی اور شفٹس کرنی پڑ رہی ہیں۔ اس مسلسل ذہنی اور جسمانی دباؤ کی وجہ سے نہ صرف ڈاکٹروں کی اپنی صحت متاثر ہو رہی ہے بلکہ علاج معالجے کے معیار میں بھی کمی آنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز اور او پی ڈیز میں مریضوں کا رش بدستور بڑھ رہا ہے جبکہ ان کا علاج کرنے والے ہاتھوں کی کمی ہوتی جا رہی ہے۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر، طبی انجمنوں اور متاثرہ ڈاکٹروں نے اوندو اسٹیٹ کی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو ڈاکٹروں کے لیے بہتر تنخواہوں، سازگار کام کے ماحول اور مراعات کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ نوجوان ڈاکٹرز ملک چھوڑنے کے بجائے یہیں رہ کر اپنے لوگوں کی خدمت کریں۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے اس معاملے پر فوری توجہ نہ دی تو ریاست کا پورا صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔ مریضوں کی جانوں کو لاحق خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ وقت کا تقاضا ہے کہ پالیسی ساز فوری طور پر اصلاحات نافذ کریں اور طبی عملے کی ہجرت کے اسباب کا سدباب کریں۔