LIVE
Loading Breaking News...

آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ کی برتری اور پیپلز پارٹی کے تحفظات

News Image
آزاد جموں و کشمیر میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی جماعت بن کر ابھر رہی ہے۔ اس دوران پاکستان پیپلز پارٹی نے پولنگ میں تاخیر، عملے کی کمی اور مبینہ دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔
آزاد جموں و کشمیر میں بلدیاتی اور انتخابی عمل کے دوسرے مرحلے کا اختتام ہو چکا ہے جہاں موصول ہونے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) نے نمایاں برتری حاصل کر لی ہے۔ مختلف حلقوں سے آنے والی اطلاعات کے مطابق ن لیگ اس مرحلے میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں دکھائی دے رہی ہے، جس سے خطے کی سیاسی فضا میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے۔ انتخابی مہم اور پولنگ کے دوران تمام جماعتوں نے بھرپور انداز میں حصہ لیا اور ووٹرز کی بڑی تعداد نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ تاہم اس انتخابی عمل کے دوران سیاسی میدان میں تناؤ بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے پولنگ کے عمل میں غیر معمولی تاخیر، انتخابی عملے کی قلت اور پولنگ کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے حوالے سے شدید خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انتخابی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کو اپنا کردار مزید مؤثر طریقے سے ادا کرنا چاہیے تھا تاکہ کسی بھی جماعت کو شکایت کا موقع نہ ملے۔ دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر نے تمام ووٹرز اور شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس جمہوری عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور ملک و قوم کے مستقبل کے لیے پرامن طریقے سے اپنا ووٹ کاسٹ کریں۔ الیکشن کمیشن حکام کے مطابق مجموعی طور پر پولنگ کا عمل زیادہ تر علاقوں میں پرامن رہا اور سیکورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ غیر سرکاری نتائج کے حتمی اعلان کے بعد ہی آزاد کشمیر کی اس سیاسی صورتحال اور بلدیاتی اداروں کی تشکیل کی مکمل تصویر واضح ہو سکے گی۔ تمام سیاسی جماعتیں اب حتمی اور سرکاری نتائج کا انتظار کر رہی ہیں تاکہ آئندہ کی سیاسی حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔ مبصرین کے مطابق یہ انتخابات خطے کی آئندہ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کریں گے، بالخصوص جب تمام بڑی جماعتیں اپنے ووٹرز کو متحرک کرنے میں مصروف ہیں۔