Business
ورچھا لیز تنازع اور دو سو ملین ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری
پی ایم ڈی سی کے ملازمین نے خبردار کیا ہے کہ پنجاب میں ورچھا نمک کی کان کے لیز تنازع کی وجہ سے بیس کروڑ ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری داؤ پر لگ گئی ہے۔ اس معاملے سے امریکہ کے ساتھ ہونے والی بڑی سرمایہ کاری متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز اردو) پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ایم ڈی سی) کے ملازمین نے ایک اہم پریس کانفرنس اور بیان میں انتباہ جاری کیا ہے کہ ورچھا سالٹ مائنز کی لیز کا تنازع ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس تنازع کے نتیجے میں تقریباً 200 ملین امریکی ڈالر کی بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری شدید خطرے میں پڑ گئی ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی کاروباری ساکھ کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تنازع پنجاب میں نمک کی کانوں کے لیز کے حقوق اور ان کے انتظامی امور سے جڑا ہوا ہے۔ امریکہ سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کار اس منصوبے میں گہری دلچسپی لے رہے تھے اور دو سو ملین ڈالر کی خطیر رقم لگانے کے لیے تیار تھے تاکہ اس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے اور پیداواری صلاحیت کو بڑھایا جا سکے۔ تاہم، حالیہ تنازعات اور انتظامی رکاوٹوں کی وجہ سے اس سرمایہ کاری کے عمل میں تعطل پیدا ہو گیا ہے۔
ملازمین کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے کو فوری طور پر خوش اسلوبی سے حل نہ کیا گیا تو غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان سے اپنے ہاتھ کھینچ سکتے ہیں۔ اس صورتحال سے نہ صرف قیمتی غیر ملکی سرمائے کا نقصان ہوگا بلکہ ملک کے معدنیاتی شعبے میں روزگار کے ہزاروں مواقع بھی متاثر ہوں گے۔ پی ایم ڈی سی کے کارکنوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت کریں اور لیز کے تنازع کو قانون کے مطابق حل کریں تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔