LIVE
Loading Breaking News...

سندھ میں بارشوں کا طوفان، وزیر اعلیٰ کا ایمرجنسی نفاذ

News Image
سندھ بھر میں شدید مون سون بارشوں کے باعث وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔ تھرپارکر اور عمرکوٹ میں بارش اور آسمانی بجلی گرنے کے مختلف حاداثات میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو گئی ہیں۔
کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ کے مختلف اضلاع میں ہونے والی موسلا دھار بارشوں نے معمولات زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے جس کے پیش نظر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے بھر میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ بارشوں کے اس نئے سلسلے نے صحرائی علاقوں کی صورتحال بھی یکسر بدل دی ہے جہاں شدید بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہے۔ دوسری جانب محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے کو بھی مسلسل صورتحال پر نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور مقامی انتظامیہ کی رپورٹس کے مطابق سندھ کے مختلف اضلاع بالخصوص تھرپارکر اور عمرکوٹ میں بارش سے جڑے مختلف افسوسناک حادثات میں کم و بیش سات افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ ان حادثات میں چھتیں گرنے اور نکاسی آب کے دوران پیش آنے والے مختلف واقعات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تھرپارکر کے دیہی علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے کے دلخراش واقعات بھی رونما ہوئے ہیں جہاں آسمانی بجلی کی زد میں آ کر تین محنت کش کسان موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اس سانحے پر صوبائی قیادت نے گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے تمام ضلعی انتظامیہ، میونسپل کارپوریشنز اور ریسکیو اداروں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ سڑکوں سے بارش کے پانی کی فوری نکاسی کو یقینی بنائیں تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے علاوہ اسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ برسات کے موسم میں پیدا ہونے والی طبی ہنگامی صورتحال سے بروقت نبردآما ہوا جا سکے۔ محکمہ صحت کی ٹیموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں ادویات کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھیں تاکہ وبائی امراض کے پھیلنے کے خطرے کو روکا جا سکے کیونکہ حالیہ بارشوں سے نشیبی علاقے زیر آب آ چکے ہیں۔ حکومتِ سندھ نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور طوفانی بارشوں کے دوران بجلی کے کھمبوں اور تاروں سے دور رہیں تاکہ کسی بھی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔ انتظامیہ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور تمام متعلقہ عملہ فیلڈ میں موجود ہے تاکہ متاثرہ افراد کو فوری مدد فراہم کی جا سکے۔ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید ریسکیو ٹیمیں بھی متاثرہ اضلاع میں روانہ کی جائیں گی۔