LIVE
Loading Breaking News...

ایران کی امریکہ کو وارننگ، پاکستان اور ترکی سے خطے کی صورتحال پر بات چیت

News Image
ایرانی حکام نے پاکستان اور ترکی کے ساتھ حالیہ سفارتی مذاکرات میں امریکہ کو کسی بھی نئی جارحیت کے سنگین نتائج سے خبردار کر دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے توانائی کے تنصیبات پر حملے کی دھمکیاں خطے میں جنگ کی آگ کو مزید بھڑکا سکتی ہیں۔
تہران: ایران نے پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ہونے والے حالیہ سفارتی مذاکرات میں واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اس کی توانائی کی تنصیبات یا دیگر اہداف کو نشانہ بنانے کی اپنی پالیسی جاری رکھی تو خطے میں جنگ کی ہولناک آگ پھیل سکتی ہے۔ ایرانی قیادت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی گرم جوشی اور مسلسل اشتعال انگیزی نہ صرف خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہی ہے بلکہ اس سے اہم سمندری گزرگاہوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ تہران کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ سفارتی شخصیات نے پاکستان اور ترکی کے ساتھ خطے کی ابتر ہوتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کی تنصیبات پر حملے کی دھمکیاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور اس کے خطے اور دنیا بھر کی معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایران نے اپنے ہمسایہ اور برادر ممالک پر واضح کیا ہے کہ خطے میں استحکام کے لیے ضروری ہے کہ امریکی دباؤ اور جارحانہ عزائم کا سختی سے نوٹس لیا جائے۔ مذاکرات کے دوران خطے کے امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ تہران مذاکرات اور سفارت کاری کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھتا ہے لیکن ملکی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔ کسی بھی نئے امریکی حملے کی صورت میں ایران کی جانب سے ملنے والا جواب اتنا سخت ہو گا کہ جارحین کو اس کے دور رس نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عالمی برادری کو بھی اس صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے تاکہ خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔