LIVE
Loading Breaking News...

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں گراوٹ، ایران جوہری معاہدے کی امیدیں

News Image
مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات اور ممکنہ جوہری معاہدے کی امیدوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر فوری حملے سے گریز کرنے کے فیصلے کے بعد سرمایہ کاروں کے خدشات میں کمی واقع ہوئی ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے کیونکہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر فوری فوجی حملے سے گریز کرتے ہوئے ایک نئے جوہری معاہدے کے امکانات کو روشن رکھا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے خدشات میں کمی آئی ہے، جس کے اثرات براہ راست توانائی کی عالمی منڈیوں پر مرتب ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتیں اس صورتحال کے باعث دباؤ کا شکار ہیں اور ڈبلیو ٹی آئی (WTI) کے نرخ بھی کم سطح پر برقرار ہیں۔ دوسری جانب، خطے میں امن مذاکرات کی بحالی اور اوپیک پلس (OPEC+) کی جانب سے پیداوار میں متوقع اضافے کی اطلاعات نے بھی تیل کی قیمتوں کو نیچے لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس سے قبل مارکیٹ میں تناؤ کی وجہ سے سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات پائے جاتے تھے لیکن حالیہ سفارتی کوششوں نے ان خدشات کو کسی حد تک کم کر دیا ہے۔ مالیاتی منڈیوں میں اس تبدیلی کے ساتھ ہی کرنسی مارکیٹ بالخصوص جاپانی ین میں بھی اچانک اتار چڑھاؤ اور تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کے حوالے سے بات چیت کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتی ہے، تو اس سے نہ صرف تیل کی قیمتوں میں استحکام آئے گا بلکہ عالمی معیشت کو بھی مہنگائی کے دباؤ سے ریلیف ملے گا۔ تاہم، تاجر اور سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال اور سیاسی بیانات پر تاحال گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ اتار چڑھاؤ سے بچا جا سکے اور مارکیٹ کے رجحانات کا درست اندازہ لگایا جا سکے گا۔