LIVE
Loading Breaking News...

گوگل کا نیا سیٹلائٹ اے آئی ٹول تنقید کے بعد واپس

News Image
گوگل نے اپنے نئے مصنوعی ذہانت سے لیس سیٹلائٹ امیجنگ ٹول کو محققین کی جانب سے غلط معلومات اور ڈیپ فیکس کے خدشات ظاہر کرنے پر واپس لے لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ڈیجیٹل سکیورٹی کو یقینی بنانا اور ممکنہ خطرات سے بچنا ہے۔
عالمی شہرت یافتہ ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے اپنے نئے مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس سیٹلائٹ امیج ٹول کو شدید تنقید اور حفاظتی خدشات کے بعد واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس ٹول کا مقصد صارفین کو گوگل ارتھ کے ذریعے مختلف مقامات کو تبدیل کرنے اور نئی تصاویر حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرنا تھا، تاہم اس کی رونمائی کے بعد عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھڑ گئی تھی۔ ماہرین اور محققین نے اس ٹول کے غلط استعمال کے حوالے سے شدید خطرات سے خبردار کیا تھا، جن کا کہنا تھا کہ اس ٹیکنالوجی سے نہ صرف غلط معلومات پھیلائی جا سکتی ہیں بلکہ آسمان سے لی جانے والی تصاویر میں ڈیپ فیکس کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ بی بی سی اور دیگر بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، گوگل کی جانب سے اس فیچر کے متعارف کرائے جانے کے فورا بعد سکیورٹی ماہرین اور سائنسدانوں نے خبردار کیا تھا کہ اس قسم کی طاقتور اے آئی ٹول کو جعلی تصاویر اور گمراہ کن پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جا सकता ہے۔ اس تنازع کے بعد این پی آر اور جاپان ٹوڈے کی رپورٹس میں بھی اس بات کی تصدیق کی گئی کہ گوگل نے بڑھتے ہوئے دباؤ اور خدشات کے پیش نظر اپنے اس پرجوش منصوبے پر فوری طور پر عمل روک دیا ہے تاکہ کسی بھی بڑے ڈیجیٹل بحران یا سکیورٹی سقم کو روکا جا سکے۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ساتھ اس کے اخلاقی اور حفاظتی پہلوؤں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ گوگل کا یہ قدم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں اب عوامی ردعمل اور محققین کے تحفظات کو سنجیدہ لے رہی ہیں تاکہ مصنوعی ذہانت کے منفی اثرات کو معاشرے پر اثر انداز ہونے سے روکا جا سکے۔ تاحال گوگل کی جانب سے اس ٹول کو دوبارہ بحال کرنے کے حوالے سے کوئی حتمی تاریخ یا لائحہ عمل جاری نہیں کیا گیا ہے، لیکن ماہرین نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔