World
ٹرمپ کا ایران پر حملہ روکنے اور پیر سے نئے مذاکرات کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ایک بڑے حملے کو منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پیر کے روز سے تہران کے ساتھ نئے مذاکرات کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کرنے والے ایک اہم بیان میں اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایران پر ایک ممکنہ اور بڑے پیمانے پر حملے کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، اس جارحانہ اقدام کو منسوخ کرنے کے بعد اب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی ذرائع سے معاملات کو حل کرنے کے لیے نئے مذاکرات کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ یہ مذاکرات آنے والے پیر کے روز سے باقاعدہ طور پر شروع ہوں گے۔
امریکی انتظامیہ کے ذرائع اور صدر ٹرمپ کے بیان کے مطابق، یہ بات چیت ایک نئے مذاکراتی عمل کی شکل میں ہوگی جس کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور طویل عرصے سے چلے آ رہے تنازعات کا پرامن حل تلاش کرنا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے اس اچانک تبدیلی کو سفارتی حلقوں میں انتہائی حیرت اور دلچسپی کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے چند لمحے پہلے تک سخت فوجی کارروائی کے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے۔
دوسری جانب، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل فی الحال چھٹتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، تاہم آئندہ ہفتے شروع ہونے والے ان مذاکرات کے نتائج کے حوالے سے حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ عالمی رہنماؤں نے اس پیش رفت پر ملا جلا ردعمل ظاہر کیا ہے جبکہ دونوں ملکوں کے عوام اور معاشی منڈیوں نے اس عارضی وقفے اور کشیدگی میں کمی کے امکان پر سکھ کا سانس لیا ہے۔